دبئی،22اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یروشلم میں ایک بار پھر مقدس مذہبی مقامات پر تصادم کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کرگئی ہیں۔ غزہ میں پر تشدد واقعات کے بعد ایک بار پھر اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان یروشلم میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
گزشتہ برس اسرائیل اور فسلطینیوں کے درمیان 11 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد حالات معمول پر آگئے تھے لیکن رواں ہفتے غزہ سے راکٹ فائر ہونے کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق بدھ اور جمعرات کو غزہ سے اسرائیل کی جانب دو راکٹ فائر کیے گئے جس کے بعد اسرائیل کی فضائیہ نے حماس کے زیرِ انتظام علاقے میں مشتبہ مقامات کو نشانہ بنایا۔جمعرات کی صبح اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں فضائی کارروائیاں کیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق فضائی کارروائی میں ایک ایسی سرنگ کو نشانہ بنایا گیا جو راکٹ تیار کرنے کے لیے کیمیکل کے زیر زمین ذخیرے تک جاتی تھی۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح کئی نقاب پوش مظاہرین نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر اس کے دروازے بند کر دیے تھے اور وہاں سے پتھراؤ کرنا اور راکٹ برسانا شروع کردیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے فلسطینیوں کو ‘فساد پر قابو پانے کے طریقوں‘ کا استعمال کرکے منتشر کر دیا ہے البتہ وہ مسجد کے احاطے میں داخل نہیں ہوئی۔ پولیس نے اپنی کارروائی کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔مسجد کے انتظامات کرنے والے وقف کے فلسطینی عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ’اے پی‘ کو بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے اسٹین گرنیڈز اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے۔
فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق 20 افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔رواں ہفتے میں متعدد بار فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان تصادم کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن میں 150 فلسطینی اور اسرائیلی تین پولیس اہل کار زخمی ہوچکے ہیں۔
فلسطینی اسرائیلی پولیس پر مسجد اقصیٰ میں طاقت کا استعمال کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس نے خواتین سمیت غیر مسلح افراد پر بھی تشدد کیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس اس الزام کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں نے سیکیورٹی فورسز پر راکٹ اور آتشیں گولوں سے حملہ کرکے اشتعال انگیزی کی ہے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطینی مظاہرین اشتعال انگیزی کر رہے ہیں اوروہ دوسروں کو خطرے میں ڈال کر اپنے ہی مقدس مقام کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق حالیہ کشیدگی کا ا?غاز 15 اپریل کو اس وقت ہوا جب یروشلم کے قدیم شہر میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں تصادم ہوا تھا، جس کے بعد اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے میں بھی کارروائیاں کی تھیں۔
ان کارروائیوں کے بعد یروشلم میں روزانہ کی بنیادوں پر تصادم کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔تازہ کشیدگی ماہِ رمضان میں یہودیوں کے ہفتے بھر کی مقدس تعطیلات پاس اوور کے دوران بڑھی،عیسائی بھی اس دوران ایسٹر کا تہوار منا رہے تھے جس کی وجہ سے ہزاروں زائرین کرونا کی وبا کے بعد پہلی بار یروشلم کے پرانے شہر میں جمع ہوئے جو تینوں مذاہب کے لیے ایک مقدس مقام ہے۔
پاس اوور کے دوران یہودیوں کی ایک بڑی تعداد عبادات کے لیے مذہبی مقامات کا رُخ کرتی ہے۔ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسرائیلی پولیس کی نفری بھی موجود ہوتی ہے۔
فلسطینی پولیس کی حفاظت میں مذہبی اور قوم پرست یہودیوں کی مقدس مذہبی مقامات پر آنے کو ممکنہ طور پر قبۃ الصخرہ اور دیگر مقامات کے احاطے پر قبضے کی کوشش تصور کیا جاتا ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی مقامات کے کنٹرول سے متعلق صورتِ حال کو جوں کا توں رکھنے کے حامی ہیں۔



