بین الاقوامی خبریں

اثاثے ضبط کیے گئے تو امریکہ سے تمام تعلقات ختم کردیں گے: روس

ماسکو ،13اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روسی وزارت خارجہ میں شمالی امریکہ سے متعلق محکمہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے روسی اثاثے ضبط کیے جانے کی صورت میں واشنگٹن کے ساتھ ماسکو کے دوطرفہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔رائٹرز کی خبر کے مطابق روس کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات اس وقت سے بہت زیادہ خراب ہو گئے ہیں جب سے ماسکو نے 24 فروری کو ہزاروں فوجی یوکرین میں بھیجے اور اسے خصوصی فوجی آپریشن قرار دیا۔

روس کے اس اقدام کے جواب میں مغربی ممالک نے ماسکو پر ایسی معاشی، مالی اور سفارتی پابندیاں عائد کیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ان پابندیوں میں روس کے تقریباً سونے اور زرمبادلہ کے نصف ذخائر کو منجمد کرنا بھی شامل ہے جن مالیت 24 فروری سے قبل 640 ارب ڈالر کے قریب تھی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل سمیت اہم مغربی حکام مستقبل میں یوکرین کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے منجمد اثاثوں کو ضبط کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔

الیگزینڈر ڈارچیف نے ایک انٹرویو کے دوران نیوز ایجنسی تاس کو بتایا کہ ہم امریکیوں کو اس طرح کے اقدامات کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہیں جس سے دو طرفہ تعلقات مستقل طور پر متاثر ہوں گے جو امریکہ اور ہمارے دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کن اثاثوں سے متعلق بات کر رہے تھے۔

جو بائیڈن انتظامیہ کے مطابق امریکا اور اس کے یورپی اتحادی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تعلقات رکھنے والے دولت مند افراد کے 30 ارب ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کرچکے ہیں، ان منجمد کیے گئے اثاثوں میں ان روسی افراد کی کشتیاں، ہیلی کاپٹر، گھر، پلازے اور قیمتی تخلیقی اشیا شامل ہیں۔ جولائی میں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ یوکرین میں جاری ماسکو کے اقدامات کے جواب میں دباؤ ڈالنے کے لیے امریکی محکمہ انصاف کانگریس سے روسی امرا کے اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے مزید وسیع اختیار طلب کر رہا ہے۔الیگزینڈر ڈارچیف نے مزید کہا کہ روس نے امریکا کو متنبہ کر دیا ہے کہ اگر روس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دیا گیا تو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات بری طرح متاثر ہوں گے اور پھر یہ تعلقات ٹوٹ بھی سکتے ہیں۔

یوکرین کی صورت حال سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے الیگزینڈر ڈارچیف نے کہا کہ کیف پر امریکی اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ امریکا تنازع میں براہ راست فریق بنتا جا رہا ہے۔تاس نیوز ایجنسی نے مزید رپورٹ الیگزینڈر ڈارچیف نے تصدیق کی کہ امریکا کی قید میں موجود روسی شہری وکٹر باؤٹ، روس میں زیر حراست امریکی باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرائنر اور سابق فوجی پال وہیلان سے متعلق ماسکو اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں بات چیت کی جا رہی ہے۔


فلسطینی اتھارٹی کی جیل میں 26 فلسطینی سیاسی بنیادوں پر بدستور قید

رملہ ،13اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سکیورٹی ادارے سیاسی گرفتاریوں کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینی سیاسی قوتوں کی طرف سے متفقہ طور پراس قسم کی حراست کی مذمت اور اسے جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔تازہ ترین سیاسی گرفتاریوں میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹٰ کی انٹیلی جنس نے جمعرات کو برزیت یونیورسٹی کے طالب علم عمرو الطویل کو رام اللہ میں اس کی ورکنگ سائٹ سے حراست میں لے لیا۔ قلقیلیہ کی ایک شاہراہ سے عباس ملیشیا نے ایک زخمی نوجوان صلاح الدین باکیر کوحراست میں لیا جب کہ نابلس سے الشیخ طالب عبدالکریم حج حمد مسکاوی کو گرفتار کیا گیا۔فلسطین میں بنیادی انسانی آزادیوں پر نظر رکھنے والے گروپ کیمطابق فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے سیاسی بنیادوں پر 26 سے زائد شہریوں کو حراست میں لے رکھا ہے،

جن میں سے زیادہ تر اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے شہری شامل ہیں۔ رپورٹ مطابق نابلس میں عباس ملیشیا نے نوجوان عبدالوہاب مسکاوی، لیڈر عمر مسکاوی کے بیٹے کو مسلسل پانچویں دن بلاطہ کیمپ میں حراست میں رکھا اور اس پر تشدد کیا گیا۔نابلس میں فلسطینی انٹیلی جنس نے سورا کے قصبے سے رہا ہونے والے قیدی حازم عونی غنیم کی حراست میں 15 دن کی توسیع کر دی۔بیت لحم میں اتھارٹی کی انٹیلی جنس سروسز نیسابق اسیر خلیل الشیخ کی گرفتاری 11ویں روز بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسی طرح سابق اسیر زخمی بلال جمال التمیمی کی گرفتاری جاری ہے۔ طوباس میں حکام نے 13ویں دن بھی نوجوان قصے دراغمہ کو اریحا سے کے مذبح خانے میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔


پرتگال میں منکی پاکس کیسز کی تعداد 770 تک پہنچ گئی

لزبن ،13اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پرتگال میں ایک ہفتے کے دوران منکی پاکس60 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 770 ہو گئی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے نے پرتگال کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے صحت کی جانب سے جاری رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ملک میں منکی پاکس کا پہلا کیس مئی میں رپورٹ ہوا جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد770 تک پہنچ گئی ہے۔ پرتگال کے دارالحکومت لزبن اور پورٹو میں منکی پاکس سے 43 فیصد متاثرہ افراد کی عمریں30 سے 39 سال ہے جن میں 99.3 فیصد مرد ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے23 جولائی کو منکی پاکس کے پھیلائو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔وہیں ماہرین کے مطابق منکی پاکس کے پھیلاؤ میں ہم جنس پرستانہ جنسی تعلقات میں ۸۰؍فیصدی کردار ہے ۔ وہیں ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر منکی پاکس کے 27 ہزار 814کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ پرتگال اس وبائی بیماری میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button