قومی خبریں

یوپی میں اب’ مرد درزی‘ خواتین کے ناپ نہیں لے سکیں گے

جم آپریٹرز کو خواتین کے لیے خواتین ٹرینرز کی خدمات بھی حاصل کرنا ہوں گی

یوپی میں اب’ مرد درزی‘ خواتین کے ناپ نہیں لے سکیں گے

یوپی،8نومبر (ایجنسیز)
اترپردیش میں خواتین کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یوپی ویمن کمیشن نے اہم رہنما خطوط تجویز کیے ہیں جس کے تحت مرد درزیوں کو خواتین کے کپڑوں کی پیمائش کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ بوتیک سینٹرز پر خواتین کے کپڑوں کی پیمائش مردوں کے بجائے خواتین ہی کریں گی۔ اس سے متعلق تمام اضلاع کو احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔خواتین کمیشن کی ہدایات کے مطابق بوتیک سینٹرز پر خواتین کے کپڑوں کی پیمائش مردوں کے بجائے خواتین ہی کریں گی۔
اس کے ساتھ ہی جم کے حوالے سے بھی ایسے ہی اصول طے کیے گئے ہیں۔ جم آپریٹرز کو خواتین کے لیے خواتین ٹرینرز کی خدمات بھی حاصل کرنا ہوں گی۔ تمام اضلاع سے کہا گیا ہے کہ وہ خواتین کمیشن کے ان رہنما خطوط پر عمل درآمد کریں۔ بوتیک میں خواتین کی پیمائش کے لیے ایک خاتون درزی کا تقرر کرنا ہو گا۔اس کے ساتھ بوتیک میں سی سی ٹی وی بھی لگائے جائیں۔
خواتین کے لیے خصوصی کپڑے فروخت کرنے والے اسٹورز کو صارفین کی مدد کے لیے خواتین ملازمین کا تقرر کرنا ہوگا۔ کوچنگ سینٹر میں خواتین کے لیے سی سی ٹی وی اور بیت الخلاء کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ تمام قوانین خواتین کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیے گئے ہیں۔اس بارے میں ڈسٹرکٹ پروبیشن آفیسر شاملی حامد حسین نے بتایا کہ 28 اکتوبر کو اتر پردیش اسٹیٹ ویمن کمیشن کی میٹنگ ہوئی، جس میں خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔
جن پر عملدرآمد ہونا ہے۔ اس کے تحت یہ کہا گیا ہے کہ خواتین کے جم/یوگا سینٹر میں ایک خاتون ٹرینر ہونی چاہیے۔ ٹرینر اور خواتین کے جم کی تصدیق کرانا بھی ضروری ہے۔اس کے علاوہ خواتین کے جم یا یوگا سنٹر میں داخل ہونے کے وقت امیدوار کے شناختی کارڈ جیسے آدھار کارڈ/ انتخابی کارڈ کی تصدیق کرنا اور اس کی کاپی کو محفوظ رکھنا لازمی ہے۔ ان جگہوں پر سی سی ٹی وی اور ڈی وی آر کو چالو کرنا لازمی ہے۔
اسکول بس میں خاتون سیکورٹی گارڈ یا خاتون ٹیچر کا ہونا لازمی ہے۔ تھیٹر آرٹ سنٹرز میں خواتین ڈانس ٹیچرز اور سی سی ٹی وی کا ہونا ضروری ہے۔ ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کی تصدیق کی جائے۔ خواتین کے کپڑوں کی دکانوں پر خواتین ملازمین کی تعیناتی بھی لازمی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button