قومی خبریں

راگھو چڈھا کو دہلی ہائی کورٹ سے فوری راحت نہیں، عدالت نے آن لائن مہم کو سیاسی تنقید قرار دیا

“پیسوں کے لیے خود کو فروخت” دکھانے والے مواد کے خلاف راگھو چڈھا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

نئی دہلی 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ نے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا کی اُس عبوری عرضی پر جمعرات کو فیصلہ محفوظ کرلیا جس میں مبینہ طور پر ہتک آمیز اور تبدیل شدہ آن لائن مواد ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔ مذکورہ مواد میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے بدلے انہوں نے “پیسوں کے لیے خود کو فروخت کردیا”۔

جسٹس سبرامنیم پرساد کی واحد رکنی بنچ نے سماعت کے دوران زبانی طور پر کہا کہ ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راگھو چڈھا کی جانب سے نشاندہی کردہ مواد دراصل ایک سیاسی فیصلے پر تنقید ہے اور اس میں شخصیتی حقوق کی خلاف ورزی ظاہر نہیں ہوتی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیاسی میدان میں لیے گئے فیصلوں پر تنقید کی جاسکتی ہے اور شخصیتی حقوق کا دائرہ اس طرح کے معاملات تک وسیع نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تنقید اور ہتک عزت کے درمیان فرق کافی باریک ہوتا ہے۔

سماعت کے دوران راگھو چڈھا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل راجیو نائر نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض سوشل میڈیا پوسٹس تنقید سے آگے بڑھ کر ہتک آمیز نوعیت اختیار کرچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ تصاویر میں وزیر اعظم کو راگھو چڈھا پر نوٹ برساتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ دیگر تبدیل شدہ تصاویر کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

وکیل نے عدالت سے محدود عبوری راحت فراہم کرنے اور ایسے مواد کو ہٹانے کی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی۔ تاہم عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ معاملہ شخصیتی حقوق کے بجائے ہتک عزت کے دائرے میں آتا ہے۔

جسٹس پرساد نے کہا کہ اگر درخواست گزار ہتک عزت کے دعوے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی عرضی میں ترمیم کرنی ہوگی۔

راگھو چڈھا نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے نام، تصویر، شناخت اور شخصیت کے مبینہ غیر مجاز استعمال کے خلاف تحفظ فراہم کیا جائے۔ عرضی میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز، مصنوعی آواز، جعلی تقاریر اور تبدیل شدہ ڈیجیٹل مواد کو بھی ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔

یہ معاملہ اُن کئی اہم شخصیات کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے دہلی ہائی کورٹ سے اپنی شناخت، تصویر اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے خلاف قانونی تحفظ طلب کیا ہے۔ ان میں گوتم گمبھیر، سنیل گواسکر، شری شری روی شنکر، ارجن کپور، الو ارجن، ناگارجن، کاجول، ایشوریہ رائے بچن، ابھیشیک بچن، جوبن نوتیال، کرن جوہر، راج شمانی اور ششی تھرور سمیت دیگر معروف شخصیات شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button