سرورققومی خبریں

کاکروچ جنتا پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں بند، انسٹاگرام پر بی جے پی سے آگے نکل گئی

یہ نوجوانوں کی تحریک ہے، اسے دبایا نہیں جا سکتا۔

نئی دہلی 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) چیف جسٹس سوریہ کانت کے متنازع ریمارکس کے بعد وجود میں آنے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” سوشل میڈیا پر ایک بڑی سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ بھارت میں پارٹی کے سماجی رابطہ ایکس اکاؤنٹ کو بند کردیا گیا ہے، تاہم انسٹاگرام پر اس کی غیر معمولی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے جمعرات کو بتایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس اقدام کو متوقع قرار دیتے ہوئے لکھا کہ "جیسا اندازہ تھا، ویسا ہی ہوا۔” اس کے ساتھ انہوں نے طنزیہ انداز میں "اون گول” بھی تحریر کیا۔

ایکس اکاؤنٹ کی بندش کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی نے انسٹاگرام پر حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے۔ بی جے پی کے تقریباً 8.8 ملین فالوورز کے مقابلے میں پارٹی کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد 12.9 ملین تک پہنچ گئی، حالانکہ یہ پارٹی محض چند روز قبل وجود میں آئی تھی۔

یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب 15 مئی کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچ” اور "طفیلی” قرار دیا۔انہوں نے کہا تھا کہ "کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہوتے ہیں، جو نہ روزگار تلاش کر پاتے ہیں اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ بنا پاتے ہیں۔ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بن جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں، اور پھر وہ سب پر حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا اور صرف ایک دن کے اندر 30 سالہ ابھیجیت ڈپکے نے اس جملے کو احتجاجی علامت بناتے ہوئے "کاکروچ جنتا پارٹی” قائم کردی۔

بعد ازاں چیف جسٹس سوریہ کانت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اشارہ صرف ان افراد کی طرف تھا جو جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہوتے ہیں، تاہم نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس وضاحت کو قبول نہیں کیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی cockroach janata party نے طنز اور مزاح کے انداز میں اپنی شناخت بنائی، لیکن اس کے پس منظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری، سیاسی بے چینی اور نظام سے مایوسی جیسے سنجیدہ مسائل بھی نمایاں ہیں۔ پارٹی کا نعرہ "سیکولر، سوشلسٹ، جمہوری، سست” سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوا۔

پارٹی کے منشور میں کئی متنازع مطالبات بھی شامل ہیں۔ ان میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس صاحبان کو راجیہ سبھا نشستیں نہ دینے، ووٹر فہرستوں میں مبینہ حذف کے معاملات پر الیکشن کمشنروں کے خلاف سخت کارروائی، آزاد صحافت کے تحفظ اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے رہنماؤں پر 20 سال تک عوامی عہدوں کی پابندی جیسے نکات شامل ہیں۔

پارٹی کے ایکس اکاؤنٹ پر پابندی سے قبل اس کے دو لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ بند کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر اس کی مقبولیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

19 مئی کو ابھیجیت ڈپکے نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر نوجوانوں کے طنز اور اختلاف رائے سے حکومت کیوں خوفزدہ ہے۔

انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ سرحدی معاملات میں خاموشی اختیار کی جا رہی ہے جبکہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی مضبوط قیادت رکھتے ہیں تو انہیں کھلے پریس کانفرنسوں میں مشکل سوالات کا سامنا کرنا چاہیے۔

ابھیجیت ڈپکے نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی دباؤ سے مرعوب نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا، "یہ آپ کی تحریک ہے، آپ کی مایوسی سے پیدا ہوئی ہے اور آپ ہی کی حمایت سے آگے بڑھ رہی ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button