خاتون کا صحت مند گردہ نکالنے پر ڈاکٹر کو 2 کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم
صحت مند بایاں گردہ نکال دیا گیا،خاتون دو سال اذیت جھیلنے کے بعد دم توڑ گئی
نئی دہلی 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قومی صارف تنازعات کے ازالے کے کمیشن نے ایک خاتون کا غلط گردہ نکالنے کے معاملے میں ڈاکٹر کو شدید طبی غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندان کو 2 کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے اس واقعے کو "اعلیٰ ترین درجے کی طبی غفلت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مریضہ کو اذیت میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
یہ معاملہ 56 سالہ خاتون سے متعلق ہے جس نے 2012 میں پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد ایک نرسنگ ہوم سے رجوع کیا تھا۔ معائنے کے دوران ڈاکٹر نے دائیں گردے میں ہائیڈرونفروسس یعنی پیشاب جمع ہونے کے باعث سوجن کی تشخیص کی اور دائیں گردہ نکالنے کا مشورہ دیا تھا۔
صارف عدالت کے مطابق تمام طبی رپورٹس اور ڈاکٹر کے نسخوں میں دائیں گردے کی سرجری درج تھی، تاہم 6 مئی 2012 کو ہونے والی سرجری کے دوران غلطی سے خاتون کا صحت مند بایاں گردہ نکال دیا گیا جبکہ متاثرہ دایاں گردہ اپنی جگہ موجود رہا۔
سرجری کے بعد مریضہ کو مسلسل ڈائیلاسز کرانا پڑا۔ طبیعت مزید خراب ہونے پر جب اسے دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا تو سی ٹی اسکین اور ریڈیولاجیکل جانچ سے انکشاف ہوا کہ اصل متاثرہ دایاں گردہ محفوظ ہے جبکہ صحت مند بایاں گردہ نکالا جا چکا ہے۔
اس معاملے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 338 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں ضلع کے چیف میڈیکل آفیسر کی جانب سے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر کی غفلت کی تصدیق کردی جس کے بعد چارج شیٹ بھی داخل کی گئی۔
قومی صارف کمیشن کی بنچ، جس میں ریٹائرڈ جسٹس اے پی ساہی اور رکن بھرت کمار پانڈیا شامل تھے، نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک ماں، بیوی اور گھریلو خاتون کا نقصان کسی بھی معاوضے سے پورا نہیں ہوسکتا۔ کمیشن نے کہا کہ اگر مریضہ کا صحت مند گردہ برقرار رہتا تو اس کی زندگی مزید طویل ہوسکتی تھی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اترپردیش میڈیکل کونسل نے ڈاکٹر کا رجسٹریشن دو سال کے لیے معطل کرتے ہوئے اس کا نام میڈیکل رجسٹر سے خارج کردیا تھا۔ بعد میں میڈیکل کونسل آف انڈیا نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
خاتون تقریباً دو برس تک شدید جسمانی اذیت برداشت کرنے کے بعد ہائپرکلیمیا اور ہائپوگلیسیمیا کے باعث فوت ہوگئی۔ متاثرہ خاندان نے 2014 میں طبی غفلت اور غیر منصفانہ رویے کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔
شکایت کنندگان کے وکیل نے کمیشن کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر نے نہ صرف سنگین غفلت برتی بلکہ غیر اخلاقی انداز میں سرجری بھی انجام دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے اپنے جواب میں بھی لاپرواہی کے بعض نکات کو تسلیم کیا جبکہ چیف میڈیکل آفیسر کی رپورٹ، یوپی میڈیکل کونسل اور میڈیکل کونسل آف انڈیا کے فیصلوں نے بھی غفلت کی تصدیق کردی۔
دوسری جانب ڈاکٹر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ دائیں گردے کی تشخیص درست تھی اور بائیں گردہ نکالنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مریض کے جسم کے دائیں حصے سے چیرا لگا کر بائیں گردہ نکالنا ممکن نہیں تھا اور شکایت کنندگان کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔
تاہم صارف کمیشن نے ڈاکٹر کے دفاع کو "عجیب” اور "ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام پری آپریٹو ٹیسٹوں میں بائیں گردہ مکمل طور پر صحت مند پایا گیا تھا، اس لیے اس کے نکالے جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
کمیشن نے ڈاکٹر کی غفلت کو "طبی تباہی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے وقت خاتون کی عمر صرف 56 برس تھی اور خاندان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔



