یوپی میں نایاب طبی واقعہ، خاتون نے پانچ دن میں چار بچوں کو دیا جنم، ایک نومولود انتقال کرگیا
پانچ دن میں چار بچوں کی پیدائش کے اس نایاب معاملے نے طبی ماہرین کو حیران کردیا۔
نئی دہلی 16 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے سنبھل ضلع کے اسمولی علاقے کی رہنے والی آمینہ نامی خاتون نے ایک نایاب طبی واقعہ میں پانچ دن کے دوران چار بچوں کو جنم دے کر ڈاکٹروں کو حیران کردیا۔ مراد آباد کے ٹی ایم یو اسپتال میں ہونے والی اس غیر معمولی نارمل ڈلیوری کو طبی ماہرین انتہائی پیچیدہ اور خطرناک معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ان چار بچوں میں سے ایک نومولود جمعہ کی شام انتقال کرگیا۔
اسپتال کے مطابق آمینہ، جن کی عمر 31 سال بتائی جارہی ہے، نے 9 مئی کو اپنے پہلے بچے کو جنم دیا، جس کا وزن تقریباً 710 گرام تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے ماں اور دیگر بچوں کی حالت کو دیکھتے ہوئے باقی بچوں کی پیدائش کو کچھ دن کے لیے مؤخر کردیا تاکہ رحم میں ان کی نشوونما مزید ہوسکے۔
پانچ دن بعد 14 مئی کو خاتون کو دوبارہ دردِ زہ شروع ہوا، جس کے بعد اس نے مزید ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو جنم دیا۔ یوں پانچ دن کے اندر دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی پیدائش مکمل ہوئی۔
ٹی ایم یو TMU اسپتال کے ترجمان مندیپ سنگھ کے مطابق پہلا نومولود کم وزن اور قبل از وقت پیدائش کے باعث جانبر نہ ہوسکا۔ ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ باقی تین بچوں میں سے ایک کی حالت مستحکم ہے اور وہ دودھ پی رہا ہے، جبکہ دو دیگر بچوں کو خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق حمل کے ابتدائی مرحلے میں ہی معلوم ہوگیا تھا کہ خاتون کے رحم میں چار بچے موجود ہیں، جس کے باعث یہ حمل انتہائی حساس تصور کیا جارہا تھا۔ رحم میں چاروں بچے الگ الگ تھیلیوں میں محفوظ تھے، جو اس معاملے کو مزید منفرد بناتا ہے۔
حمل کے دوران آمینہ کو بی پی اور جگر سے متعلق پیچیدگیوں کا بھی سامنا رہا، جس کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ وہ پورے حمل کے دوران ہر 15 سے 20 دن میں طبی معائنہ کراتی رہی۔
ڈاکٹر شبھرا اگروال، ڈاکٹر پورتی، ڈاکٹر رولی اور ڈاکٹر مونیکا پر مشتمل طبی ٹیم نے اس پیچیدہ معاملے کی مسلسل نگرانی کی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں عموماً سیزرین آپریشن کیا جاتا ہے، لیکن اس کیس میں نارمل ڈلیوری کے ذریعے بچوں کی پیدائش ایک غیر معمولی طبی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔
بچوں کے والد محمد علیم، جو ایک گروسری دکان چلاتے ہیں، اور اہل خانہ نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ماں اور باقی تینوں بچوں کی حالت بہتر ہورہی ہے اور انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔



