سرورققومی خبریں

2019 کے انتخابی ضابطہ اخلاق خلاف ورزی معاملے میں اعظم خان مجرم قرار، دو سال قید کی سزا سنائی گئی

اعظم خان کو متنازع تقریر کیس میں دو سال قید کی سزا

رامپور 16 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان کی قانونی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔رامپور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت کے مجسٹریٹ ٹرائل شوبھت بنسل نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران دیے گئے انتخابی تقریر معاملے میں انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے دو سال سادہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

یہ مقدمہ 2019 کے عام انتخابات کے دوران ایک انتخابی جلسے میں اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض اور دھمکی آمیز تبصرہ کرنے سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق محمد اعظم خان نے انتخابی مہم کے دوران سرکاری افسر کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے تھے جنہیں انتخابی ضابطہ اخلاق اور دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق محمد اعظم خان اُس وقت سماجوادی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ بھوٹ تھانہ علاقے میں منعقدہ ایک جلسے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ سنگین ہوگیا تھا۔ ویڈیو میں وہ ضلع مجسٹریٹ کے تعلق سے متنازع ریمارکس کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے، جس کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے ان کے خلاف نفرت انگیز تقریر، انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت کافی عرصے سے رامپور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں جاری تھی۔ عدالت نے گواہوں کے بیانات، ویڈیو شواہد اور دونوں فریقوں کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ہفتے کو اپنا فیصلہ سنایا۔

سرکاری وکیل سودیش شرما کے مطابق مقدمے میں آٹھ گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے، جن میں پولیس اہلکار اور انتظامی افسران شامل تھے۔ ان کے مطابق عدالت میں ویڈیو فوٹیج بھی پیش کی گئی، جبکہ ملزم کی جانب سے اس ویڈیو کی صداقت پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ مقدمہ ابتدا میں سول لائنز تھانے میں درج کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے بھوٹ تھانے منتقل کردیا گیا کیونکہ مبینہ واقعہ منکارا گاؤں میں پیش آیا تھا۔ اس معاملے کی تفتیشی رپورٹ رشی پال سنگھ نے عدالت میں پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ محمد اعظم خان کے خلاف گزشتہ چند برسوں کے دوران زمینوں پر قبضے، جعلسازی، انتخابی خلاف ورزیوں اور دیگر معاملات میں متعدد مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ وہ اس وقت بھی مختلف مقدمات میں عدالتی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ کئی معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button