
کولکتہ سے پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص گرفتار
ین آئی اے کے مطابق ملزم حساس سیکوریٹی معلومات پاکستان منتقل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
کولکتہ 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے کولکتہ سے ایک ایسے شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس پر پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے اور حساس سیکوریٹی معلومات منتقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ معاملہ بھارت مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردانہ سازش سے جڑا ہوا ہے۔
این آئی اے کے بیان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت ظفر ریاض عرف رضوی کے طور پر ہوئی ہے۔ اس کے خلاف پہلے ہی لوک آؤٹ سرکولر جاری کیا جاچکا تھا جبکہ اسے مفرور قرار دینے کی کارروائی بھی جاری تھی۔ بعد ازاں ایجنسی نے اسے حراست میں لے لیا۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا، آفیشیل سیکریٹس ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ظفر ریاض کی شادی ایک پاکستانی خاتون سے ہوئی تھی جبکہ اس کے بچے بھی پاکستانی شہریت رکھتے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق وہ اس سے قبل بھی ایک جاسوسی معاملہ میں سزا یافتہ رہ چکا ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزم 2005 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلسل سفر کرتا رہا تھا۔ انہی سفروں کے دوران مبینہ طور پر پاکستان کے خفیہ افسران نے اس سے رابطہ قائم کیا اور مالی فائدے اور پاکستانی شہریت کے وعدے کے بدلے اسے جاسوسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
این آئی اے نے الزام لگایا کہ ملزم نے بھارتی موبائل نمبروں کے ون ٹائم پاس ورڈ فراہم کرکے بعض واٹس ایپ اکاؤنٹس فعال کرانے میں مدد کی۔ ایجنسی کے مطابق انہی اکاؤنٹس کے ذریعہ خفیہ رابطے قائم کیے جاتے تھے۔
تحقیقاتی ایجنسی نے بتایا کہ اس معاملہ میں موتی رام جاٹ نامی ایک اور شخص بھی شامل ہے جس پر حساس سیکوریٹی معلومات پاکستان تک پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق پورے نیٹ ورک اور اس کے پس پردہ سازش کی جانچ جاری ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ معاملہ سے جڑے دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔



