ہوٹل کے کمرے میں ملنے والے عاشق جوڑے کی پولیس اسٹیشن میں شادی، لڑکی خوش، لڑکا حیران
دلہن اس شادی سے بے حد خوش دکھائی دی جبکہ دلہا نے اسے جبری شادی قرار دیا۔
پٹنہ 21 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ہوٹل میں مقیم عاشق جوڑے کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد پولیس اسٹیشن کے احاطے میں موجود مندر میں شادی کرا دی۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ دلہن اس شادی سے بے حد خوش دکھائی دی جبکہ دلہا نے اسے جبری شادی قرار دیا۔
اطلاعات کے مطابق نوادہ ضلع سے تعلق رکھنے والے راجیش اور لڑکی گزشتہ کئی برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں تھے۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل دونوں اپنے گھروں سے نکل کر پٹنہ پہنچ گئے تھے اور ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔ بدھ کے روز لڑکی کے اہل خانہ کی اطلاع پر جکن پور پولیس نے مٹھاپور پرانے بس اسٹینڈ کے قریب واقع ایک ہوٹل پر چھاپہ مار کر دونوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس کے بعد دونوں کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا جہاں دونوں خاندانوں کے افراد بھی پہنچ گئے۔ پولیس اسٹیشن میں کئی گھنٹوں تک شدید ہنگامہ آرائی اور بحث و تکرار جاری رہی۔ نوجوان شادی کے لیے آمادہ نہیں تھا جبکہ لڑکی کے اہل خانہ مسلسل شادی پر زور دیتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے دن ایک ساتھ رہنے کے بعد اب ان کی بیٹی سے کوئی اور شادی نہیں کرے گا۔
معاملہ بڑھنے پر پولیس نے دونوں خاندانوں کی کاؤنسلنگ کی اور آخرکار پولیس کی موجودگی میں شادی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیس اسٹیشن کے قریب واقع منوکامنا مندر میں پنڈت ودیادھر شکلا نے دونوں کی ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرائی۔
راجیش، جو دہلی میں تعلیم اور ملازمت سے وابستہ بتایا جا رہا ہے، نے الزام لگایا کہ اس پر دباؤ ڈال کر شادی کرائی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ لڑکی اپنی مرضی سے اس کے ساتھ آئی تھی لیکن پولیس نے حالات کو اس کے خلاف موڑ دیا۔ دوسری جانب لڑکی نے اس شادی پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ راجیش گزشتہ پانچ برسوں سے اس کے ساتھ تعلق میں تھا اور اب ان کے رشتے کو سماجی اور مذہبی حیثیت مل گئی ہے۔
مندر کے پجاری نے بتایا کہ پولیس کی اطلاع پر انہوں نے پہلے دونوں کی عمر کی تصدیق کی اور یہ یقین کر لیا کہ دونوں بالغ ہیں۔ اس کے بعد اہل خانہ اور پولیس کی موجودگی میں شادی کی رسم ادا کی گئی۔
یہ واقعہ اس وقت مزید موضوعِ بحث بن گیا جب دلہا نے اسے زبردستی شادی قرار دیا جبکہ دلہن نے اسے اپنی زندگی کا خواب پورا ہونے سے تعبیر کیا۔ عام طور پر جرائم کے معاملات سے گونجنے والا پولیس اسٹیشن اس مرتبہ ایک انوکھی شادی کی وجہ سے خبروں میں آ گیا۔



