دہلی عدالت نے چیتنیانند سرسوتی کی پیشگی ضمانت مسترد کر دی
طالبات کے جنسی استحصال اور مالی بدعنوانی کے الزامات کے بعد...
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی کی ایک عدالت نے خود ساختہ مذہبی گرو سوامی چیتنیانند سرسوتی عرف پارتھ سارتھی کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ دھوکہ دہی، جعلسازی اور مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات کے تناظر میں آیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے کی نوعیت اور جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضمانت دینا مناسب نہیں۔
چیتنیانند پر دہلی کے ایک نجی مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ کی 17 طالبات کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی کا بھی کیس درج ہے، جس کے بعد وہ فرار ہو گیا۔ پولیس نے اسے ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے لُک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے۔
شرنگیری پیٹھ اور شردھا انسٹیٹیوٹ ٹرسٹ کے مطابق چیتنیانند نے ادارے کی تقریباً 20 کروڑ روپے کی جائیداد اور آمدنی کو ذاتی فائدے کے لیے ہتھیا لیا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ 2010 میں اس نے ایک نیا ٹرسٹ قائم کیا اور تمام آمدنی اور محصولات اس کے ذریعے منتقل کر دیے۔ پیٹھ نے اسے جعلسازی، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چیتنیانند کے 18 بینک اکاؤنٹس اور 28 فکسڈ ڈپازٹس (ایف ڈیز) منجمد کر دیے، جن میں تقریباً 8 کروڑ روپے موجود ہیں۔ تفتیشی اہلکاروں کے مطابق یہ رقم ٹرسٹس کی جائیداد سے تعلق رکھتی ہے، جن کے ذریعے وہ ادارے کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔
ایک سابق طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چیتنیانند کا عملہ انسٹیٹیوٹ میں اس کی مرضی کے مطابق کام کرتا تھا۔ وہ طالبات پر دباؤ ڈالتا اور مخالفت کرنے والوں کو ہراساں کرتا تھا۔ متعدد لڑکیوں نے کئی بار شکایت کی لیکن پولیس کی ناکافی کارروائی کی وجہ سے کارروائی ناکام رہی۔ رپورٹ کے مطابق چیتنیانند اقتصادی طور پر کمزور لڑکیوں کو نشانہ بناتا، انہیں اسکالرشپ یا بہتر مستقبل کے بہانے بہکاتا اور مخالفت کرنے والوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتا۔
اضافی سیشن جج ہردیپ کور نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے اور تفتیش افسر کو دھوکہ دہی، مالی بدعنوانی اور سازش کی مکمل جانچ کے لیے ملزم سے حراستی میں پوچھ گچھ کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ الزامات کی سنگینی اور جرم کی نوعیت کے پیش نظر پیشگی ضمانت دینا مناسب نہیں، لہٰذا درخواست مسترد کر دی گئی۔
پولیس کے مطابق چیتنیانند نے انسٹیٹیوٹ کی زمینوں اور املاک کو نجی کمپنیوں کو کرایہ پر دے کر مالی فائدہ حاصل کیا۔ اس نے اس رقم سے مہنگی لگژری گاڑیاں خریدیں، جن میں ایک وولوو جس پر جعلی سفارتی نمبر پلیٹ ‘39 یو این 1’ لگی ہوئی تھی اور ایک بی ایم ڈبلیو شامل ہے۔
یہ کیس دسمبر 2024 میں اس وقت سامنے آیا جب ابتدائی آڈٹ میں مالی بے ضابطگیاں ظاہر ہوئیں، اور تب سے پولیس مسلسل چھاپے مار کر چیتنیانند کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



