سرورققومی خبریں

نروانے کی غیر شائع شدہ کتاب پر راہل گاندھی کا حوالہ، پارلیمنٹ میں ہنگامہ

راہل گاندھی کا لوک سبھا میں ہنگامہ، قومی سلامتی پر بولنے کی اجازت نہ ملنے کا الزام

نئی دہلی 02 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سابق آرمی چیف جنرل منوج نروانے کی غیر شائع شدہ کتاب کے حوالے سے پیر کو لوک سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی   نے صدر کے خطاب پر جاری پارلیمانی بحث کے دوران اپنی تقریر میں جنرل نروانے کی یادداشت کا حوالہ دیا، جس پر حکمراں جماعت کے ارکان نے سخت اعتراض جتایا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ ایوان میں کسی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دینا پارلیمانی قواعد کے خلاف ہے۔

یہ تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب معلوم ہوا کہ جنرل نروانے کی یادداشت  ’’ Four Stars of Destiny‘‘ گزشتہ ایک سال سے مرکزی حکومت کی منظوری کی منتظر ہے۔ ایک ادبی میلے میں گفتگو کرتے ہوئے سابق آرمی چیف نے کہا کہ ان کی ذمہ داری کتاب لکھ کر پبلشر کو سونپنا تھی، جبکہ اشاعت سے قبل وزارت دفاع سے اجازت لینا پبلشر کا کام ہے۔ ان کے مطابق کتاب ایک سال سے جائزے کے مرحلے میں ہے۔

جنرل نروانے نے واضح کیا کہ سابق فوجی افسران کی تحریروں کو سرکاری ضابطوں کے مطابق منظوری کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان کے بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کتاب کی منظوری میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے اور آیا اس کے پس منظر میں حساس معاملات تو شامل نہیں۔

لوک سبھا میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ نے راہل گاندھی کے بیان پر شدید احتجاج کیا۔ ایوان میں حکمراں اتحاد اور کانگریس ارکان کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ ہنگامہ بڑھنے پر اسپیکر اوم برلا نے کارروائی ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔

اسپیکر نے بار بار کانگریس لیڈر سے کہا کہ وہ ایوان میں غیر شائع شدہ کتابوں کا حوالہ نہ دیں، تاہم راہل  گاندھی نے چین کے ساتھ فوجی کشیدگی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف نے اپنی یادداشت میں اعلیٰ قیادت کے کردار پر بھی بات کی ہے۔ حکومت نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی بھی ایوان میں موجود تھے، جس سے ایوان کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔

راہل گاندھی کا طنز: حکومت آخر کس بات سے خوفزدہ ہے؟ 56 انچ کے سینے پر سوال-

انگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں لوک سبھا میں قومی سلامتی کے معاملے پر بولنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ ایوان کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو خوف ہے کہ اگر سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب کا مواد سامنے آیا تو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بارے میں حقیقت آشکار ہو جائے گی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ یہ قومی سلامتی سے جڑا حساس معاملہ ہے اور وہ سابق آرمی چیف کی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے ساتھ گفتگو کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اس بحث سے بچ رہی ہے کیونکہ اس سے کئی اہم سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملک کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ جب چینی فوجی آگے بڑھ رہے تھے تو “56 انچ کے سینے” کا کیا ہوا تھا۔

ادھر ایوان میں اس معاملے پر حکمراں جماعت اور کانگریس کے ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف کی یادداشتوں کے مسودے کے اقتباسات کا حوالہ دے کر حکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس پر حکمراں پارٹی کے ارکان نے سخت اعتراض کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ان بیانات کو خیالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قائد حزب اختلاف ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسلسل ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی متاثر رہی اور دو بار اجلاس ملتوی کرنے کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی منگل کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دی۔ سیاسی حلقوں میں اس معاملے کو لے کر بحث تیز ہو گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button