دلچسپ خبریںسرورق

105 سال پرانا جرمن ٹریکٹر 1.25 کروڑ میں فروخت، جالندھر سے امریکہ تک حیران کن سفر

ویڈیو سے قیمت میں حیران کن اضافہ

نئی دہلی 23 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) پنجاب کے شہر جالندھر میں کئی دہائیوں سے کباڑ میں پڑا ایک 105 سال پرانا جرمن ٹریکٹر اچانک عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ یہ نایاب ونٹیج ٹریکٹر 1.25 کروڑ روپے میں ایک امریکی خریدار کو فروخت کر دیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے وائرل ہوگئی۔

معلومات کے مطابق یہ 1921 میں تیار کیا گیا Lanz Bulldog HL 12 ماڈل ہے، جسے جرمنی کی معروف کمپنی Heinrich Lanz AG نے تیار کیا تھا۔ کمپنی زرعی آلات کی تیاری میں عالمی شہرت رکھتی تھی اور اس کے بلڈاگ سیریز کے ٹریکٹر 1921 سے 1950 تک بنائے جاتے رہے۔

یہ ٹریکٹر جالندھر کے ہیڈ بھگت سنگھ چوک کے قریب کئی برسوں تک زنگ آلود حالت میں پڑا رہا۔ اگرچہ اس پر زنگ لگ چکا تھا، مگر اس کے سائیڈ پینلز اور پچھلے حصے پر "ہینرک لانز مانہیم” کے الفاظ واضح طور پر درج تھے، جو اس کی تاریخی اہمیت کا ثبوت ہیں۔

مقامی کونسلر پونیت وڈھیرا کے مطابق دو ماہ قبل ایک یوٹیوبر نے اس ٹریکٹر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد اس کی قیمت میں حیران کن اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدا میں اس کی قیمت دو لاکھ روپے لگائی گئی، مگر چند ہی گھنٹوں میں بولی 28 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔

17 فروری کو امریکہ سے ایک خریدار نے 1.25 کروڑ روپے کی پیشکش کی، جسے قبول کر لیا گیا۔ اگلے دن اسے کرین کے ذریعے اٹھا کر ممبئی بندرگاہ روانہ کیا گیا، جہاں سے اسے امریکہ کے ریاست کیلیفورنیا میں واقع زرعی میوزیم بھیجا جائے گا۔

ونٹیج ہینرک لانز ٹریکٹر اپنی مضبوط انجینئرنگ اور طویل عمر کے لیے دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ابتدائی مشینوں میں شامل تھا جو خام تیل سمیت مختلف اقسام کے ایندھن پر چل سکتا تھا۔ اس کا اگلا حصہ بلڈاگ کی شکل سے مشابہ تھا، اسی مناسبت سے اسے بلڈاگ کا نام دیا گیا۔

ماہرین کے مطابق ایسے تاریخی زرعی آلات نہ صرف صنعتی تاریخ کی یادگار ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر کلیکٹرز کے لیے قیمتی سرمایہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ جالندھر میں کباڑ سمجھا جانے والا یہ ٹریکٹر اب عالمی میوزیم کی زینت بننے جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اوقات پرانی اشیاء بھی انمول خزانہ ثابت ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button