خامنہ ای کی ہلاکت پر حکومت کی خاموشی ذمہ داری سے دستبرداری ہے: سونیا گاندھی
1994 میں کشمیر پر ایران کی حمایت یاد دلائی،ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر حکومت خاموش کیوں؟ سونیا گاندھی کا سوال
نئی دہلی 03 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت پر مرکزی حکومت کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین عالمی واقعے پر سرکاری بیان جاری نہ کرنا غیر جانبداری نہیں بلکہ ذمہ داری سے انحراف ہے۔
اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ جاری سفارتی عمل کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کو نشانہ بنانا عالمی تعلقات میں ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق اس سے بھی زیادہ تشویشناک نئی دہلی کی خاموشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ اس واقعے کی واضح مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے کوئی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں صرف ایران کی جوابی کارروائی کی مذمت کی گئی، جبکہ اس سے قبل ہونے والے حملوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں تشویش اور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا گیا، حالانکہ حملوں سے پہلے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔
سونیا گاندھی نے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ دو شق چار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ریاست کی سیاسی آزادی یا علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کا استعمال ممنوع ہے۔ ان کے مطابق ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرنا ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوال کھڑے کرتا ہے۔
انہوں نے 1994 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے خلاف قرارداد لانے کی کوشش کی جا رہی تھی تو ایران نے نئی دہلی کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے 2001ء تہران دورے کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کی یاد دہانی کرائی۔
سونیا گاندھی نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت والی حکومت کی غیر مشروط حمایت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ مؤقف ہندوستان کی روایتی سفارتی توازن سے ہٹ کر ہے۔ ان کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کا قتل ایک خطرناک پیش رفت ہے جس کے علاقائی اور عالمی اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی سلامتی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ہندوستان کی طاقت اس کی آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی میں رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے نازک وقت میں واضح اور اصولی مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔



