سرورققومی خبریں

بھوج شالہ تنازعہ: سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کیا، مسلم فریق کو ہائی کورٹ جانے کی ہدایت

ویڈیو گرافی تک مکمل رسائی بھی حاصل نہیں ہو سکی

نئی دہلی 01 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے تاریخی شہر دھار میں واقع بھوج شالہ کے تنازعہ پر سپریم کورٹ نے فوری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے مسلم فریق کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اعتراضات کے ازالے کیلئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر معاملہ ہائی کورٹ کے زیر غور ہے، اس لیے وہی تمام قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لینے کا مناسب فورم ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مسلم فریق نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی جانب سے کیے گئے سروے، خصوصاً ویڈیو گرافی اور رپورٹ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ انہیں سروے کے دوران اپنے اعتراضات مکمل طور پر ریکارڈ کرانے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، جس سے شفافیت پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل سلمان خورشید نے عدالت کو بتایا کہ سروے کے عمل میں ان کی نمائندگی محدود رہی اور ویڈیو گرافی تک مکمل رسائی بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مکمل ریکارڈ مہیا کیا جائے تو وہ اپنے اعتراضات کو بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں، لہٰذا عدالت اس سلسلے میں ہدایات جاری کرے۔

تاہم عدالت نے اس موقف کو سننے کے بعد کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ پہلے ہی اس معاملے کی نگرانی کر رہی ہے اور اس نے یہ واضح کیا ہے کہ تمام فریقین کو اپنے اعتراضات پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سروے کے دوران اٹھائے گئے اعتراضات ریکارڈ کا حصہ ہیں، جن پر ہائی کورٹ تفصیل سے غور کرے گی۔

بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس مرحلے پر سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری نہیں، کیونکہ معاملہ ابھی ابتدائی سطح پر ہے اور ہائی کورٹ اس کی سماعت کر رہی ہے۔ عدالت نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہائی کورٹ شواہد، ویڈیو گرافی اور دیگر مواد کا باریک بینی سے جائزہ لے کر انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ رویہ عدالتی نظم و ضبط کے اصول کے مطابق ہے، جہاں اعلیٰ عدالت غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتی ہے اور متعلقہ ہائی کورٹ کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اب اس حساس معاملے میں اگلا مرحلہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں ہوگا، جہاں تمام فریقین کے دلائل اور اعتراضات پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button