ایکسائز پالیسی کیس: دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال کو ای ڈی کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا
دہلی شراب پالیسی کیس میں تفتیش تیز، ای ڈی کی مزید کارروائیاں متوقع
نئی دہلی 01 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ درخواست ان کی بریت کے خلاف دائر کی گئی ہے جو انہیں سمن کی عدم تعمیل سے متعلق مقدمات میں حاصل ہوئی تھی۔
عدالت عالیہ کی جسٹس سورنا کانتا شرما نے ای ڈی کی جانب سے دائر دو درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا اور کیس کی اگلی سماعت 29 اپریل مقرر کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریق نے نوٹس کے باوجود پیشی اختیار نہیں کی، لہٰذا نیا نوٹس جاری کیا جائے۔
ای ڈی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اروند کیجریوال نے جان بوجھ کر ادارے کے سمنس پر عمل نہیں کیا اور تفتیش میں شامل ہونے سے گریز کیا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے غیر ضروری اعتراضات اٹھا کر جان بوجھ کر پیش نہ ہونے کی بنیادیں تیار کیں۔
تاہم ٹرائل کورٹ نے 22 جنوری کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ای ڈی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ کیجریوال نے دانستہ طور پر سمنس کی خلاف ورزی کی۔ اسی بنیاد پر انہیں بری کر دیا گیا تھا۔
ای ڈی کا یہ بھی الزام ہے کہ اس کیس میں دیگر ملزمان ایکسائز پالیسی کی تشکیل کے دوران کیجریوال کے ساتھ رابطے میں تھے اور اس پالیسی کے ذریعے انہیں غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا جبکہ بدلے میں رشوت لی گئی۔
فی الحال اروند کیجریوال منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت پر ہیں۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں گرفتاری کی ضرورت اور قانونی حیثیت سے متعلق اہم سوالات کو بڑی بنچ کے سپرد کر چکی ہے تاکہ اس پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔
27 فروری کو ٹرائل کورٹ نے کیجریوال، منیش سسودیا اور دیگر 21 افراد کو سی بی آئی کے مقدمے میں بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ کیس عدالتی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ اس فیصلے کے خلاف سی بی آئی کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
دہلی شراب پالیسی کیس میں تفتیش تیز، ای ڈی کی مزید کارروائیاں متوقع
دہلی شراب پالیسی کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے اپنی تحقیقات کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے بعد آنے والے دنوں میں مزید بڑی کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ کیس پہلے ہی ملک کی سیاست میں ہلچل پیدا کر چکا ہے اور اب اس کی تفتیش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی نے حالیہ دنوں میں کئی اہم دستاویزات اور مالی ریکارڈ حاصل کیے ہیں، جن کی بنیاد پر کیس کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کا مرکز مبینہ مالی بے ضابطگیاں اور غیر قانونی لین دین ہیں، جن کے حوالے سے کئی افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں کچھ نئے پہلو سامنے آئے ہیں، جن کی بنیاد پر مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا سکتے ہیں اور مزید افراد کو طلب کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون اپنا کام کر رہا ہے اور کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جا رہا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں مالی، قانونی اور سیاسی پہلو شامل ہیں۔ اگر تحقیقات میں مزید ثبوت سامنے آتے ہیں تو اس کے بڑے اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
فی الحال اس کیس کی پیش رفت پر ملک بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں، اور آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے



