سپریم کورٹ کو درکار ’بندر بھگانے والے ملازمین‘، ججز کے بنگلوں کے لیے ٹینڈر جاری
بندر بنے سپریم کورٹ کے لیے چیلنج، بھگانے کے لیے ٹینڈر جاری
نئی دہلی 03 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ آف انڈیا نے ججز کے رہائشی بنگلوں اور عدالت سے منسلک دیگر مقامات پر بندروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا ٹینڈر جاری کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف روزمرہ کی پریشانی کو کم کرنا ہے بلکہ سکیورٹی سے جڑے ممکنہ خدشات کو بھی قابو میں رکھنا ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پورٹل کے ذریعے نجی ایجنسیوں اور وینڈرز سے آن لائن بولیاں طلب کی گئی ہیں۔ منتخب ایجنسی کو ایسے تربیت یافتہ ملازمین فراہم کرنے ہوں گے جو بندروں کو محفوظ انداز میں بھگانے، دور رکھنے اور ضرورت پڑنے پر قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
تفصیلات کے مطابق یہ معاہدہ ابتدائی طور پر دو سال کے لیے ہوگا، جس کے دوران تقریباً 35 سے 40 ججز کے رہائشی بنگلوں میں عملہ تعینات کیا جائے گا۔ یہ تمام بنگلے سپریم کورٹ کے اطراف تقریباً 10 کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس کام کے لیے بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افراد کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، تاہم عملے کی حتمی تعداد ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ تعینات کیے جانے والے ملازمین کی بنیادی ذمہ داری بندروں کو بغیر نقصان پہنچائے دور رکھنا، احاطوں میں ان کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنا اور کسی بھی قسم کے خطرے یا خلل کو روکنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ رہائشی اور ادارہ جاتی مقامات پر محفوظ ماحول کو یقینی بنانا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں بندروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے نہ صرف ججز کے رہائشی علاقوں میں مشکلات پیدا کی ہیں بلکہ یہ مسئلہ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسی تناظر میں عدالت عظمیٰ نے پیشگی اقدامات کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔
ٹینڈر دستاویز میں دیگر شرائط و ضوابط بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس مسئلے کا دیرپا اور مؤثر حل نکالا جا سکے اور عدالت سے وابستہ تمام مقامات کو محفوظ رکھا جا سکے۔



