راگھو چڈھا پر AAP کی سخت تنقید، ’مودی سے ڈرتے ہو‘،چڈھا کا پلٹ وار: خاموش ہوں، ہارا نہیں!
چڈھا وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بولنے سے گھبراتے ہیں۔سوربھ بھاردواج
نئی دہلی 03 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)عام آدمی پارٹی اور راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کے درمیان تنازع اب شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک طرف پارٹی قیادت نے ان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، وہیں چڈھا نے اپنے خلاف کارروائی کو "خاموش کرانے کی کوشش” قرار دیا ہے۔
راگھو چڈھا نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارلیمنٹ میں بولنے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ انہیں ایوان میں اظہار خیال کا موقع نہ دیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر انہیں خاموش کیوں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جب بھی انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع ملا، انہوں نے عوامی مسائل کو اجاگر کیا، جن میں ٹول پلازہ میں مبینہ بدعنوانی، کھانے میں ملاوٹ اور فوڈ ڈیلیوری بوائے کے حقوق جیسے موضوعات شامل ہیں۔ چڈھا نے کہا کہ "میری خاموشی کو شکست نہ سمجھا جائے، میں ایک ایسا دریا ہوں جو وقت آنے پر سیلاب بن جاتا ہے۔”
دوسری جانب عام آدمی پارٹی کی قیادت نے چڈھا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی کارکردگی اور وفاداری پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے الزام لگایا کہ چڈھا گزشتہ کچھ عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بولنے سے گھبراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص خوفزدہ ہو وہ ملک کے لیے مؤثر آواز نہیں بن سکتا۔
دہلی عام آدمی پارٹی کے صدر سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ گجرات میں گرفتار پارٹی کارکنوں کے حق میں آواز اٹھائی اور نہ ہی دیگر اہم معاملات پر سرگرمی دکھائی۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے واک آؤٹ کے دوران بھی چڈھا کا رویہ غیر فعال رہا۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر ناراضگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب یہ بات سامنے آئی کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پیش کی گئی ایک اہم تحریک پر چڈھا نے دستخط نہیں کیے۔ اس کے علاوہ متعدد مواقع پر پارٹی لائن سے ہٹنے کے الزامات بھی ان پر لگائے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں عام آدمی پارٹی نے راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کو خط لکھ کر راگھو چڈھا کو ایوان بالا میں پارٹی کے نائب قائد کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے اور ان کی جگہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اشوک متل کو نامزد کیا ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چڈھا کو پارٹی کے کوٹے کے تحت بولنے کے مواقع سے محروم رکھا جائے۔



