واشنگٹن ڈی سی کے میئر الیکشن میں رینی سمپت پہلی جنوبی ایشیائی امیدوار بن گئیں
31 سالہ رینی سمپت بچپن ہی میں امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔
واشنگٹن 04 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ کی سیاست میں جنوبی ایشیائی برادری کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بھارتی نژاد رینی سمپت نے واشنگٹن ڈی سی کے میئر کے انتخاب میں تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ اس اعلیٰ عہدے کے لیے بیلٹ تک پہنچنے والی پہلی جنوبی ایشیائی امیدوار بن گئی ہیں، جسے سیاسی حلقوں میں ایک نمایاں سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تمل ناڈو کے ضلع تھینی میں پیدا ہونے والی 31 سالہ رینی سمپت بچپن ہی میں امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدوجہد کا نتیجہ ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے لیے باعثِ فخر لمحہ بھی ہے۔
رینی سمپت کے مطابق وہ سات برس کی عمر میں بڑے خواب لے کر امریکہ آئیں اور اب ان کا مقصد یہ ہے کہ واشنگٹن ڈی سی کے ہر شہری کو بہتر مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کی انتخابی مہم کو عوامی سطح پر خاطر خواہ پذیرائی ملی ہے اور چار ہزار پانچ سو سے زائد افراد نے ان کی حمایت میں دستخط کیے، جس کے بعد انہیں باضابطہ طور پر بیلٹ میں شامل کر لیا گیا۔
گزشتہ ایک دہائی سے واشنگٹن ڈی سی میں مقیم رینی سمپت ایک سرکاری ٹھیکیدار کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کا انتخابی منشور شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی مرمت، سیوریج نظام کی اصلاح، پانی کی نکاسی، ایمرجنسی سروسز (911) کی بہتری اور مہنگائی پر قابو پانا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
انہوں نے موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا بنیادی ڈھانچہ مسلسل زوال کا شکار ہے۔ حالیہ برفباری کے دوران سڑکوں، فٹ پاتھوں اور کچرے کے انتظام میں شدید بدانتظامی دیکھنے میں آئی، جو شہری مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔
خود کو ایک غیر روایتی اور آزاد امیدوار قرار دیتے ہوئے رینی سمپت نے واضح کیا کہ انہیں کسی بڑی سیاسی جماعت کی پشت پناہی حاصل نہیں، تاہم وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے نئی سوچ اور عملی قیادت پر یقین رکھتی ہیں۔
رینی سمپت نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے خاندان، خصوصاً اپنے والد اور دادا کو دیا اور کہا کہ ہندوستانی اقدار اور خاندانی تربیت نے انہیں عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق رینی سمپت کی امیدواری امریکہ میں بھارتی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی سیاسی شمولیت کی عکاس ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں اس کمیونٹی کی نمائندگی کانگریس اور ریاستی سطح پر بڑھی ہے، تاہم بڑے شہروں کے میئر کے انتخابات میں اب بھی ان کی موجودگی محدود رہی ہے۔



