سرورققومی خبریں

اندور میں وندے ماترم تنازعہ: کانگریس کی خاتون کونسلرز کا انکار، ایوان میں ہنگامہ

‘قرآن اس کی اجازت نہیں دیتا’: اندور میں کانگریس کونسلرز نے وندے ماترم گانے سے انکار کر دیا

اندور 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں میونسپل کارپوریشن کا ایک معمول کا بجٹ اجلاس اس وقت بڑے سیاسی تنازع میں تبدیل ہو گیا جب کانگریس کی دو خاتون کونسلرز نے "وندے ماترم” پڑھنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کو ہونے والے اجلاس میں کانگریس کونسلر فوزیہ شیخ علیم اور روبینہ اقبال نے قومی نغمہ گانے میں حصہ لینے سے گریز کیا۔ فوزیہ شیخ علیم نے اپنے موقف میں کہا کہ ان کا مذہب انہیں وندے ماترم گانے کی اجازت نہیں دیتا، جبکہ آئین انہیں مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے، اس لیے انہیں مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

انکار کے فوراً بعد حکمراں بی جے پی کے کونسلرز مشتعل ہو گئے اور چیئرمین منّو لال یادو کے پوڈیم کے قریب پہنچ کر نعرے بازی شروع کر دی۔ بڑھتے ہوئے ہنگامے کے پیش نظر چیئرمین نے نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے فوزیہ شیخ کو ایوان سے باہر جانے کی ہدایت دی۔

میئر پشیمتر بھارگَو نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی گیت کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کچھ کونسلرز جان بوجھ کر اجلاس میں تاخیر سے پہنچتے ہیں تاکہ وندے ماترم سے بچ سکیں۔

دوسری جانب فوزیہ شیخ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی ترانے کا مکمل احترام کرتی ہیں، تاہم انہیں اجلاس میں بنیادی شہری مسائل، خاص طور پر گندے پانی کے مسئلے پر بات کرنے سے روکا گیا اور غیر ضروری طور پر تنازع پیدا کیا گیا۔

روبينہ اقبال نے بھی میڈیا سے گفتگو میں اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کریں گی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ خالصتاً مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ہے، تاہم وہ ملک کا احترام کرتی ہیں اور دیگر حب الوطنی کے نغموں جیسے "سارے جہاں سے اچھا” میں حصہ لیتی ہیں۔

اس واقعہ نے کانگریس کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا۔ ایک دیگر کونسلر نے کہا کہ فوزیہ شیخ ماضی میں وندے ماترم گاتی رہی ہیں، جبکہ انہوں نے خود اجلاس میں اس نغمے میں شرکت کی اور اسے احترام کا معاملہ قرار دیا۔

ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قانونی کارروائی کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ شہر بی جے پی قیادت نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے سخت بیانات دیے اور اس معاملے کو قومی وقار سے جوڑا۔

روبينہ اقبال نے خبردار کیا کہ اگر پارٹی کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔ انہوں نے بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکانات کا بھی اشارہ دیا۔

واضح رہے کہ "وندے ماترم” کو بنکم چندر چٹرجی نے 1875 میں تحریر کیا تھا اور اسے بعد میں ہندوستان کے قومی گیت کا درجہ دیا گیا۔ یہ گیت طویل عرصے سے حب الوطنی کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم وقتاً فوقتاً اس پر سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر تنازعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ملک میں قومیت، مذہبی آزادی اور سیاسی بیانیہ کے درمیان جاری بحث کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک مقامی معاملہ اب وسیع سیاسی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button