بین الاقوامی خبریں

ایران کے پاس صرف 3 دن باقی، تیل کے انفراسٹرکچر پر حملہ ہو سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے، دانشمندی کا مظاہرہ ضروری ہے۔

تہران 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس اپنے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا، جس نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر امریکہ سے مذاکرات کے لیے رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت میں کچھ عناصر ایسے ہیں جو معقول سوچ رکھتے ہیں، تاہم بعض حلقے صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ خطے میں استحکام قائم ہو سکے۔

امریکی صدر نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم ہو سکتی ہے اور امریکہ اس میں کامیاب ہو کر سامنے آئے گا۔ انہوں نے ناٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ چین کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا کہ وہ مزید تعاون کر سکتا تھا۔

دوسری جانب وائٹ ہاوز میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ سکیورٹی کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور تقریب کے مرکزی مقام تک نہیں پہنچ سکا، تاہم یہ واقعہ سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور ذہنی مسائل کا شکار تھا اور اس کا خاندان اس سے آگاہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے خوف کی فضا کو وقتی طور پر اتحاد میں بدل دیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اندر ایک جدید اور محفوظ تقریب گاہ کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ ان کے مطابق نئی عمارت میں اعلیٰ ترین حفاظتی معیار اپنائے جا رہے ہیں اور اس کی تکمیل کا بے صبری سے انتظار ہے۔

ادھر قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے بتایا کہ 31 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کے محرکات اور پس منظر کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد عالمی رہنماؤں نے سیاسی تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے ایک اہم چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button