مجتبیٰ خامنہ ای کیوں نظر نہیں آ رہے؟ صحت سے متعلق تازہ تفصیلات
کافی عرصے سے نظر نہ آنے والے مجتبیٰ خامنہ ای، صحت پر نئی معلومات سامنے
تہران 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور عوامی منظرنامے سے مسلسل غیبت کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ رپورٹس نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ مارچ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے نہ عوام کے سامنے آئے ہیں اور نہ ہی کسی براہِ راست خطاب میں نظر آئے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران میں اس وقت اہم سیکیورٹی، عسکری اور سفارتی فیصلے بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز اور قریبی حلقے کر رہے ہیں، جس سے طاقت کے مراکز میں تبدیلی کا تاثر بھی ابھر رہا ہے۔
سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے سابق مشیر عبدالرضا دواری نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ملک کو ایک کارپوریٹ طرز پر چلا رہے ہیں، جہاں فیصلے اجتماعی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں، نہ کہ روایتی یک فردی انداز میں۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان کے والد کے کمپاؤنڈ پر کیے گئے حملے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اس حملے میں اہلِ خانہ کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای خود بھی شدید زخمی ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی ایک ٹانگ پر تین آپریشن ہو چکے ہیں اور مستقبل میں مصنوعی ٹانگ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسی طرح ایک ہاتھ کا آپریشن بھی کیا گیا ہے جو بتدریج صحت یاب ہو رہا ہے۔ چہرے اور ہونٹوں پر جھلسنے کے باعث انہیں بولنے میں دشواری کا سامنا ہے اور ممکنہ طور پر پلاسٹک سرجری درکار ہوگی۔
میڈیا رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ دانستہ طور پر کسی ویڈیو یا آڈیو پیغام میں سامنے نہیں آ رہے تاکہ کمزور دکھائی نہ دیں۔ تاہم ان کی جانب سے تحریری بیانات جاری کیے جا رہے ہیں جو سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر کیے جاتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کے مطابق ان تک رسائی انتہائی محدود ہے اور پیغامات خفیہ ذرائع سے منتقل کیے جاتے ہیں۔ اس وقت وہ سخت نگرانی میں طبی ماہرین کی دیکھ بھال میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ملک کے انتظامی امور پس پردہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان انکشافات نے ایران کی موجودہ قیادت، طاقت کے توازن اور مستقبل کی سیاسی سمت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔



