بین الاقوامی خبریں

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع، امن کی نئی امید

جنگ بندی میں توسیع نے خطے میں امن کی نئی راہیں کھول دی ہیں

واشنگٹن 24 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں اس ملاقات کو نہایت کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ لبنان کو حزب اللہ کے خلاف مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال ایک بڑے امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ ہفتوں میں لبنان اور اسرائیل کی قیادت کے درمیان براہ راست ملاقات متوقع ہے، جو خطے میں دیرپا امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کی مالی معاونت بند کرے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جنگ بندی میں توسیع کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ دونوں ممالک امن کے خواہاں ہیں اور شدت پسندی سے متاثر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل مستقبل میں پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اسرائیل کے سفیر نے جلد امن کی امید ظاہر کی، جبکہ لبنان کی نمائندگی کرنے والی سفیر نے امریکی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی تعاون سے لبنان کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ امریکی سفارتی حلقوں کا بھی ماننا ہے کہ اصل تنازع حزب اللہ کے کردار سے جڑا ہوا ہے۔

یہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ تھا، جس میں اعلیٰ امریکی قیادت نے بھی شرکت کی۔ اس سے قبل اپریل کے وسط میں ہونے والا پہلا دور کئی دہائیوں بعد ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی جنگ بندی کے دوران اگرچہ بعض خلاف ورزیاں سامنے آئیں، لیکن مذاکراتی عمل جاری رہا۔

ادھر حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم لبنانی حکام کا مؤقف ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلے صرف ریاست کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں تاکہ ملک کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق جنگ بندی میں حالیہ توسیع نہ صرف کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ ایک جامع امن معاہدے کی بنیاد بھی رکھ سکتی ہے، جس کا خطے کے استحکام پر گہرا اثر پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button