ایران سے مذاکرات ختم، فوجی آپشن پر غور,امریکی قانون ساز کا سخت مؤقف
سفارتکاری کے بجائے فوجی دباؤ کو ترجیح دی جا رہی ہے
واشنگٹن/اسلام آباد 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ میں راجر ویکر نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو ختم کرنے اور فوجی آپشن اختیار کرنے کا مطالبہ کر کے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی ثالثی کوششیں تعطل کا شکار ہو چکی ہیں۔
امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے سربراہ راجر ویکر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اب مؤثر نہیں رہے اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سخت اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں ایران کی قیادت پر کسی بھی معاہدے کے حوالے سے اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ وہ فوجی کمانڈ کو ہدایت دے کہ ایران کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کیا جائے اور اس کے جوہری پروگرام کے باقی عناصر کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کے بقول یہی راستہ خطے میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب اسلام آباد میں متوقع سفارتی مذاکراتی وفد کا دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے متعلق شدید اختلافات مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ ناکامی کے بعد واشنگٹن میں پالیسی سازوں کے درمیان یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مذاکراتی عمل جاری رکھنا فائدہ مند بھی ہے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق سینیٹر ویکر کا بیان امریکی کانگریس کے اندر بڑھتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں سفارتکاری کے بجائے فوجی دباؤ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف وائٹ ہاؤس پر بھی دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ مؤقف مزید مضبوط ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور سلامتی کی صورتحال پر بھی مرتب ہوں گے۔



