
شادی شدہ مرد سے تعلقات کو دھوکہ دہی قرار نہیں دیا جا سکتا:چھتیس گڑھ ہائی کورٹ
اگر خاتون کو مرد کے شادی شدہ ہونے کا علم ہو تو دھوکہ دہی کا مقدمہ نہیں بنتا
نئی دہلی 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے عصمت دری اور دھوکہ دہی سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی خاتون کو پہلے سے معلوم ہو کہ مرد شادی شدہ ہے اور اس کے باوجود وہ اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتی ہے تو ایسے معاملے میں نہ تو شادی کے جھوٹے وعدے کا دعویٰ قابلِ قبول ہوگا اور نہ ہی اسے دھوکہ دہی یا عصمت دری قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس سنجے ایس اگروال کی بنچ نے سنایا، جس میں نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا گیا اور خاتون کی جانب سے دائر اپیل کو مسترد کر دیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مقدمے میں خاتون خود اپنی پیروی کر رہی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون کے دعووں اور بیانات میں کئی اہم تضادات موجود ہیں۔ ریکارڈ کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ نہ تو ابتدائی اطلاع میں اور نہ ہی پولیس شکایت میں شادی کے لیے کسی مخصوص تاریخ کا ذکر کیا گیا تھا۔ شکایت میں صرف یہ کہا گیا کہ ملزم نے مئی سے ستمبر 2008 کے درمیان شادی کا وعدہ کر کے اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے۔
عدالت نے مزید کہا کہ خاتون کے اپنے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے۔ وہ نہ صرف اس حقیقت سے واقف تھی بلکہ ملزم کی پہلی بیوی کا نام بھی جانتی تھی۔ اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ دھوکہ دہی یا جھوٹے وعدے کا عنصر اس معاملے میں ثابت نہیں ہوتا۔
یہ پورا معاملہ ڈونگر گڑھ کا ہے، جہاں رہنے والی ایک خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس نے مہیش نامی شخص کے ساتھ شادی کا معاہدہ کیا تھا، جس کے بعد وہ اس کے ساتھ رہنے لگی اور دونوں کے درمیان جسمانی تعلق قائم ہوا۔ خاتون کا یہ بھی الزام تھا کہ اس نے ملزم پر تقریباً 85 ہزار روپے خرچ کیے، لیکن جب اس نے رقم واپس مانگی تو ملزم نے انکار کر دیا اور اسے گھر سے نکال دیا۔
اس کے بعد خاتون نے ملزم کے خلاف دھوکہ دہی اور شادی کے بہانے زبردستی جسمانی تعلقات قائم کرنے کا مقدمہ درج کرایا۔ تاہم، نچلی عدالت نے خاتون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے حق میں فیصلہ سنایا تھا، جس کے خلاف خاتون نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مرد اور عورت دونوں اس بات سے واقف تھے کہ وہ قانونی طور پر شادی شدہ نہیں ہیں کیونکہ مرد کی پہلی بیوی زندہ تھی۔ اس لیے یہ رشتہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ عدالت کے مطابق یہ میریج پہلے ہی ہندو میریج ایکٹ کی دفعات 5 اور 11 کے تحت کالعدم تھا، لہٰذا اس بنیاد پر دھوکہ دہی یا فراڈ کا مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے آخر میں کہا کہ ایسے معاملات میں حقائق اور فریقین کے علم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اور صرف الزامات کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔



