قومی خبریں

عہدے کے بدلے تعلقات کا مطالبہ؟ مہوبہ میں بی جے پی لیڈر پر خاتون کے سنسنی خیز الزامات

میرے ساتھ سوئیں، تب ہی عہدہ ملے گا‘: مہوبہ میں بی جے پی لیڈر پر سنگین الزام

نئی دہلی 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اترپردیش کے ضلع مہوبہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر ایک بڑا تنازع سامنے آیا ہے، جہاں پارٹی کی سابق ضلعی وزیر دیپالی تیواری نے ضلع صدر موہن لال کشواہا پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دیپالی تیواری کا کہنا ہے کہ ضلع نائب صدر کے عہدے کے بدلے اس پر جنسی تعلقات کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

دیپالی تیواری کے مطابق، جب انہوں نے ضلع نائب صدر کے عہدے کے لیے رابطہ کیا تو ان کے سامنے ایسی شرط رکھی گئی جس نے انہیں حیران کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موہن لال کشواہا نے انہیں دہلی اور لکھنؤ ساتھ چلنے کی پیشکش کی اور خبردار کیا کہ اگر وہ انکار کریں گی تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا یا پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔

مہوبہ میں بی جے پی کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور یہ معاملہ سڑکوں اور سوشل میڈیا تک پہنچ چکا ہے۔ نئی ضلعی ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل کے بعد سے پارٹی کے اندر بے اطمینانی پائی جا رہی تھی، تاہم دیپالی تیواری کے فیس بک لائیو کے بعد یہ معاملہ ایک بڑے سیاسی تنازع میں تبدیل ہو گیا۔

دیپالی تیواری نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے دو دیگر عہدیداروں—ضلع جنرل سکریٹری اور ایک ضلع نائب صدر—نے بھی ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ ضلع صدر کے مطالبات مان لیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ کئی برسوں سے پارٹی کے لیے کام کر رہی تھیں، مگر جب انہیں یہ دھمکی دی گئی کہ ان کے شوہر کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جا سکتا ہے تو وہ خاموش نہ رہ سکیں اور عوام کے سامنے آنے پر مجبور ہو گئیں۔

دوسری جانب، بی جے پی ضلع صدر موہن لال کشواہا نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں اور ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی ایک سازش ہے۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی باتوں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

اگرچہ دیپالی تیواری پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکی ہیں، لیکن ان کے الزامات نے مہوبہ میں سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات واضح ہوتے جا رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے کو لے کر حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پارٹی قیادت اس معاملے میں کیا قدم اٹھاتی ہے اور کیا اس تنازع کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن ہو پاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button