بندر پکڑو، انعام پاؤ: مہاراشٹر حکومت کا نیا اعلان عوامی توجہ کا مرکز
بندر پکڑنے پر 600 روپے انعام، مہاراشٹر حکومت کا اعلان
ممبئی 27 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں بندروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ محکمۂ جنگلات کی جانب سے جاری حکم کے مطابق اب بندروں کو محفوظ طریقے سے پکڑنے پر فی بندر 600 روپے انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد یہ معاملہ عوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ عوامی نمائندوں اور مقامی افراد کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل بندروں کو پکڑنے پر 300 روپے دیے جاتے تھے، تاہم کم رقم کے باعث لوگ اس کام میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ نئی رقم کے اعلان کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ اس مہم میں تیزی آئے گی۔
ریاست کے کونکن خطے اور مغربی مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں بندروں نے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ یہ بندر نہ صرف لوگوں پر حملے کر رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر فصلوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف رتناگیری ضلع میں گزشتہ دو سے تین برس کے دوران بندروں سے متعلق 5600 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بندروں کی وجہ سے روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے اور لوگ خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اسی پس منظر میں حکومت نے انعامی رقم میں اضافہ کر کے عوام اور ریسکیو ٹیموں کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔
محکمۂ جنگلات نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بندروں کو پکڑنے کے دوران انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ پکڑے گئے بندروں کو کم از کم 10 کلومیٹر دور کسی محفوظ جنگل میں چھوڑنا لازمی ہوگا۔ اس پورے عمل کے دوران محکمۂ جنگلات کے اہلکار کی موجودگی ضروری قرار دی گئی ہے۔
حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ انعام حاصل کرنے کے لیے ثبوت کے طور پر تصاویر اور ویڈیوز جمع کرانا لازمی ہوگا، جس کے بعد ہی ادائیگی کی جائے گی۔
یہ اسکیم فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے بندروں کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔



