قومی خبریں

دہلی ہائی کورٹ کی شخصیت کے حقوق کے غلط استعمال پر تنبیہ

ہر کامیابی کو شخصیت کے حقوق کا درجہ دینا غیر معقول نتائج پیدا کرے گا

نئی دہلی 05 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی ہائیکورٹ نے “شخصی حقوق ” کی حد سے زیادہ توسیع کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کامیابی یا تعلیمی امتیاز کو اس زمرے میں شامل کرنا غیر معقول اور بے جوڑ نتائج پیدا کرے گا۔

عدالت کے جسٹس تشار راؤ نے یہ ریمارکس ایک تجارتی مقدمے کی سماعت کے دوران دیے، جس میں دو ایڈٹیک پلیٹ فارمز کے درمیان ہتک عزت، بدنامی اور ٹریڈ مارک کے غیر مجاز استعمال کے الزامات زیر بحث آئے۔ اس تنازع میں کلاٹ 2026 میں اول مقام حاصل کرنے والی طالبہ کی شناخت کے استعمال کا معاملہ بھی شامل تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر ہر کامیابی کو “شخصیت کے حقوق” کا درجہ دیا جائے تو یہ ایک ناقابل عمل نظیر قائم کرے گا۔ جسٹس گیڈیلا نے کہا کہ اگر اس تشریح کو آگے بڑھایا گیا تو ہر طالب علم یا شہری جو کسی بھی مرحلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرے، وہ اس تحفظ کا دعویٰ کرے گا، جو عملی طور پر ممکن نہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ شخصیت کے حقوق عموماً ان افراد کے لیے تسلیم کیے گئے ہیں جن کی عوامی شناخت مستقل ہو اور جن کی شخصیت سے تجارتی قدر وابستہ ہو۔ محض ایک تعلیمی کامیابی کو اس معیار پر پورا نہیں اتارا جا سکتا۔

یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب ایک کم عمر طالبہ کے آل انڈیا رینک 1 حاصل کرنے کے بعد مختلف کوچنگ اداروں کے درمیان سخت مقابلہ اور الزام تراشی شروع ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ طالبہ کی حیثیت اس تنازع میں مختلف ہے اور بظاہر وہ بڑی کاروباری رقابت میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

عدالت نے متعلقہ فریقین کو ہدایت دی کہ وہ طالبہ کے نام یا شناخت کو کسی بھی مہم میں استعمال نہ کریں، خاص طور پر جب وہ خود اس تنازع سے الگ رہنے کی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔

ابتدائی جائزے میں عدالت نے پایا کہ مدعا علیہان کی جانب سے جاری کردہ پوسٹس، ویڈیوز اور بلاگز بادی النظر میں مدعیان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے بنائے گئے تھے، جن میں “LegalEdge” نامی رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کا غیر مجاز استعمال بھی شامل تھا۔

عدالت نے اس معاملے کو پیشہ ورانہ رقابت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حریف کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں۔

چنانچہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مدعا علیہان کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی قسم کا ہتک آمیز یا بدنامی پر مبنی مواد شائع یا پھیلانے سے گریز کریں۔ ساتھ ہی گوگل اور میٹا جیسے درمیانی پلیٹ فارمز کو بھی ہدایت دی گئی کہ 72 گھنٹوں کے اندر متعلقہ مواد کو ہٹا دیا جائے یا اس تک رسائی محدود کی جائے۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ طالبہ کے نام، تصاویر یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کسی بھی نمائندگی کا استعمال نہ کیا جائے، اور مقدمے سے متعلق مواد میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے باز رہا جائے۔مزید سماعت فریقین کے جوابات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button