جڑواں بہنیں ایک ہی کوکھ سے مگر باپ مختلف، ڈی این اے ٹیسٹ نے 49 سال پرانا راز فاش کر دیا
ہم ایک ہی کوکھ سے پیدا ہوئیں، مگر ہماری کہانی عام نہیں بلکہ ایک حیران کن حقیقت ہے۔
لندن 05 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)برطانیہ میں ایک حیران کن اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 49 سالہ جڑواں بہنوں کے ڈی این اے ٹیسٹ نے ایک ایسا راز بے نقاب کر دیا جو دہائیوں سے چھپا ہوا تھا۔ دونوں بہنیں ایک ہی ماں کے بطن سے ایک ہی وقت میں پیدا ہوئیں، لیکن ان کے حیاتیاتی باپ الگ الگ نکلے۔
مشیل اور لاوینیا اوسبورن نامی ان بہنوں کو طویل عرصے سے اپنے والد کی شناخت کے حوالے سے شبہات تھے۔ مشیل کو ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس شخص سے مشابہت نہیں رکھتی جسے وہ اپنا والد سمجھتی تھیں۔ اسی شک کو دور کرنے کے لیے انہوں نے گھریلو ڈی این اے ٹیسٹ کروایا، جس کے نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔
بعد ازاں لاوینیا نے بھی ٹیسٹ کروایا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ دونوں بہنوں کے حیاتیاتی باپ مختلف ہیں۔ اس نایاب سائنسی مظہر کو طبی دنیا میں ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔
سائنس کے مطابق یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک ہی ماہواری کے دوران عورت کے جسم سے دو انڈے خارج ہوں اور انہیں بہت کم وقفے میں دو مختلف مردوں کے نطفے سے بارآور کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کے باپ مختلف ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ایسے واقعات نہایت کم رپورٹ ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
بہنوں کی والدہ نے یہ حقیقت اپنی پوری زندگی پوشیدہ رکھی۔ افسوس کہ وہ ڈی این اے نتائج سامنے آنے سے قبل ہی انتقال کر گئیں۔ بعد ازاں دونوں بہنوں نے اپنے حیاتیاتی والدین کو تلاش کیا اور ان سے ملاقات بھی کی، جس پر انہوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔
بہنوں کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے باوجود ان کے باہمی تعلقات اور محبت میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ وہ پہلے کی طرح ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو اپنی زندگی کا ایک منفرد اور حیرت انگیز پہلو قرار دیا۔



