گوشہ خواتین و اطفال

ہارمون کی خرابی خواتین میں ناپسندیدہ بالوں کی وجہ بننے لگی

خواتین میں ناپسندیدہ بالوں کی افزائش ہارمون کی خرابی کا نتیجہ

خواتین کے ہونٹوں کے اوپر، تھوڑی، سینے، پیٹ اور پیٹھ پر باریک یا موٹے بالوں کی افزائش ایک عام مگر اہم طبی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسم کے مختلف حصوں میں موٹے اور سیاہ بالوں کی نشو و نما کو "ہیرسوٹزم” کہا جاتا ہے، جو زیادہ تر ہارمون کی خرابی کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں خواتین کے جسم میں مردانہ انداز کے بال بڑھنے لگتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے جسم میں مردانہ ہارمون کم مقدار میں موجود ہوتے ہیں، لیکن جب یہ ہارمون معمول سے زیادہ پیدا ہونے لگیں تو چہرے اور جسم پر ناپسندیدہ بالوں کی افزائش شروع ہو جاتی ہے۔ کئی صورتوں میں اس بیماری کی اصل وجہ واضح نہیں ہو پاتی، جبکہ بعض اوقات یہ مسئلہ خاندانی طور پر نسل در نسل بھی منتقل ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق پولی سسٹک اووری سنڈروم یعنی پی سی او ایس اس بیماری کی سب سے عام وجہ ہے۔ اس کیفیت میں بچہ دانی پر نرم سیسٹ بن جاتے ہیں جو ہارمون کی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ماہواری بے قاعدہ ہو جاتی ہے، شدید مہاسے نکلتے ہیں اور وزن کم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر چار میں سے تین ہیرسوٹزم کے معاملات پی سی او ایس سے جڑے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر ناپسندیدہ بال اچانک تیزی سے بڑھنے لگیں تو یہ کسی سنگین مسئلے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات جسم میں ایسے ٹیومر پیدا ہو جاتے ہیں جو مردانہ ہارمون خارج کرتے ہیں۔ ایڈرینل غدود کا کینسر، بچہ دانی کا کینسر، پیدائشی ایڈرینل ہائپرپلاسیا اور بعض نایاب طبی کیفیات بھی اس خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق خواتین میں اس بیماری کے ساتھ دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جن میں بھاری آواز، تھکاوٹ، مزاج میں تبدیلی، بانجھ پن، پیڑو میں درد اور شدید مہاسے شامل ہیں۔ بعض ادویات، خصوصاً ہارمون پر مشتمل دوائیں، مرگی کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات اور کیمو تھراپی بھی غیر معمولی بالوں کی افزائش کا باعث بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عام بالوں اور ہارمون کی خرابی کے باعث اگنے والے بالوں میں بنیادی فرق ان کی ساخت ہوتی ہے۔ غیر معمولی بال زیادہ موٹے، سخت اور سیاہ ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی تشخیص کے لیے جسمانی معائنہ ضروری ہوتا ہے تاکہ دیگر علامات کا بھی جائزہ لیا جا سکے۔

طبی معائنے کے دوران خون کے ٹیسٹ، ہارمون کی سطح کی جانچ، الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے اور دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ بچہ دانی اور ایڈرینل غدود کی کیفیت معلوم کی جا سکے۔ ماہرین نے بتایا کہ وزن میں کمی اس بیماری پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ناپسندیدہ بالوں سے وقتی نجات کے لیے شیو کرنا، ویکس، بلیچنگ اور بال توڑنے جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ شیو کرنا ایک آسان اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے جبکہ ویکس کے ذریعے بال نسبتاً دیر سے دوبارہ نکلتے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض بلیچنگ مصنوعات جلد میں جلن پیدا کر سکتی ہیں جبکہ بال توڑنے یا موم کے استعمال سے جلد پر دانے اور سوزش بھی ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر جسم پر غیر معمولی بالوں کی افزائش کے ساتھ ماہواری میں بے قاعدگی، وزن میں اضافہ یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button