غازی آباد :تاریخِ پیدائش کے ریکارڈ میں تضاد، ہزاروں پاسپورٹ التواء کا شکار
تاریخِ پیدائش کے ریکارڈ میں گڑبڑ، ہزاروں پاسپورٹ پھنس گئے
غازی آباد 06 مئی:(اردودنیا.اِن/ڈیسک)غازی آباد ریجنل پاسپورٹ آفس میں ہزاروں افراد کے پاسپورٹ تاریخِ پیدائش کے تضاد کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔ زیر التواء درخواستوں کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑی تعداد میں درخواست دہندگان نے ابتدا میں ایک تاریخِ پیدائش کے ساتھ پاسپورٹ حاصل کیا، لیکن بعد میں آدھار، تعلیمی اسناد یا دیگر سرکاری دستاویزات میں اپنی تاریخِ پیدائش تبدیل کرا لی۔ اب یہی فرق پاسپورٹ کی تصدیق اور تجدید میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
محکمہ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ اعتراضات تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کے معاملات پر سامنے آئے ہیں۔ قواعد کے مطابق پاسپورٹ میں تاریخِ پیدائش کی تبدیلی ایک پیچیدہ عمل ہے، جس کے لیے مجسٹریٹ کے حکم یا مجاز ادارے کی جانب سے جاری کردہ مستند ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
محض آدھار یا دیگر دستاویزات میں ترمیم کرانے سے پاسپورٹ میں خودکار طور پر تبدیلی منظور نہیں کی جاتی۔ اسی سبب متعدد افراد کو ملازمت، بیرونِ ملک سفر اور ویزا کارروائی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں تمام دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی جاتی ہے اور ضابطوں کے مطابق فیصلہ لیا جاتا ہے۔ اگر کاغذات نامکمل یا مشکوک ہوں تو درخواستیں زیر التواء رکھی جا سکتی ہیں یا مسترد بھی کی جا سکتی ہیں۔
محکمہ کے مطابق جس تاریخِ پیدائش کی بنیاد پر ابتدائی پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تجدید کے وقت بھی اسی کو بنیاد مانا جاتا ہے۔ تجدید کے دوران درخواست دہندگان کو سابقہ تاریخِ پیدائش کی تصدیق کرنے والے اصل دستاویزات پیش کرنا لازمی ہوتا ہے، ورنہ نیا پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا۔
ذرائع کے مطابق کئی افراد نے دسویں جماعت سے قبل پاسپورٹ بنواتے وقت پیدائشی سند استعمال کی تھی، لیکن بعد میں مختلف سہولتوں کے لیے اپنی تاریخِ پیدائش دیگر دستاویزات میں تبدیل کرا لی۔ اب پاسپورٹ کی تجدید کے دوران یہی تضاد ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
غازی آباد ریجنل پاسپورٹ آفس اتر پردیش کے 13 اضلاع کے شہریوں کو خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں آگرہ، علی گڑھ، باغپت، بلند شہر، گوتم بدھ نگر، غازی آباد، ہاتھرس، متھرا، مظفر نگر، میرٹھ، ہاپوڑ، سہارنپور اور شاملی شامل ہیں۔
میرٹھ کے رہائشی راہول شرما نے بتایا کہ انہوں نے 2015 میں اپنے اسکولی ریکارڈ کے مطابق پاسپورٹ حاصل کیا تھا، لیکن بعد میں آدھار اور دیگر دستاویزات میں تاریخِ پیدائش درست کرانے کے بعد ان کی درخواست پھنس گئی۔
لونی کی رہائشی شبانہ پروین نے کہا کہ ان کا پہلا پاسپورٹ دسویں جماعت سے قبل جاری ہوا تھا اور اب مختلف دستاویزات میں تاریخِ پیدائش الگ ہونے کی وجہ سے ان کا پاسپورٹ رکا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کئی مرتبہ پاسپورٹ دفتر کے چکر لگا چکی ہیں۔



