بین الاقوامی خبریں

ایران امریکہ جنگ معاہدہ: ایران اور امریکہ تین اہم نکات پر متفق، جنگ بندی کے اعلان کی قیاس آرائیاں

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اسلام آباد 06 مئی:(اردودنیا.اِن/ڈیسک)ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق خبروں نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک بعض اہم نکات پر اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم متعدد معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک ایک مختصر معاہدے پر غور کر رہے ہیں جس میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت جیسے امور شامل ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر یہ یقین دہانی کرا سکتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی سے متعلق بھی مختلف تجاویز زیر بحث ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد رقوم کی واپسی جیسے معاملات پر بھی گفتگو جاری ہے۔ اس کے ساتھ انسانی امداد اور تعمیر نو سے متعلق مالی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عالمی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی مذاکراتی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے بعض رپورٹس کو امریکی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ایرانی موقف کے مطابق کچھ اطلاعات کا مقصد عالمی منڈیوں اور سیاسی ماحول پر اثر ڈالنا ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت مختلف دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کسی حتمی اتفاقِ رائے تک پہنچنا پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے اندرونی سیاسی اختلافات مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صورتِ حال کو “انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی” قرار دیا ہے۔ انہوں نے سفارتی حل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری رہنا چاہیے، تاہم انہوں نے ایرانی قیادت کے بعض حلقوں پر سخت تنقید بھی کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر موجودہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو امریکہ بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کرنے اور فوجی کارروائی بحال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس امکان نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ مذاکرات کسی غیر جانبدار مقام پر منعقد کیے جا سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دیگر نکات پر بات چیت ابھی جاری ہے۔ اب تک کسی حتمی معاہدے یا باضابطہ جنگ بندی کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سفارتی حلقے ان پیش رفتوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button