بین ریاستی خبریں

بابا صدیقی قتل کیس سے جڑا جعلی بینک اکاؤنٹس گینگ بے نقاب، 53.55 کروڑ روپے کے سائبر فراڈ کا انکشاف

اہم انکشاف بابا صدیقی قتل کیس سے تعلق کا سامنے آیا ہے۔

گاندھی نگر 06 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) گجرات کے گاندھی نگر میں ایک بڑے سائبر کرائم نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا گیا ہے جس کا تعلق ہائی پروفائل بابا صدیقی قتل کیس سے بتایا جا رہا ہے۔ سائبر سینٹر آف ایکسی لینس نے “آپریشن مول 2.0” کے تحت بڑی کارروائی کرتے ہوئے 10 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق یہ گینگ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بڑے پیمانے پر سائبر فراڈ اور منی لانڈرنگ میں ملوث تھا۔

سائبر سینٹر آف ایکسی لینس کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجدیپ سنگھ جھالا کی قیادت میں کی گئی کارروائی کے دوران 132 سائبر کرائم کیسز کو حل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان ایک منظم نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے تھے اور ڈیجیٹل فراڈ کے ذریعے مختلف ریاستوں کے لوگوں کو نشانہ بناتے تھے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس گینگ کا نیٹ ورک آنند سمیت گجرات کے کئی شہروں تک پھیلا ہوا تھا۔ ملزمان دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم کو فرضی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق ان کھاتوں کے ذریعے مجموعی طور پر 53.55 کروڑ روپے کا لین دین کیا گیا، جو ایک بڑے مالیاتی جرائم کے نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس معاملے میں سب سے اہم انکشاف بابا صدیقی قتل کیس سے تعلق کا سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان ساحل، شبیر اور میا ملک نے قتل کیس کے ملزمان کو جعلی بینک اکاؤنٹس فراہم کیے تھے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور ان کے سراغ کو چھپانے میں مدد لی جاتی تھی۔ اس انکشاف کے بعد تفتیشی ایجنسیوں نے جانچ مزید تیز کردی ہے۔

پولیس کے مطابق گینگ جدید تکنیکی طریقوں کا استعمال کر رہا تھا۔ ملزمان جعلی بینک اکاؤنٹس، ڈیجیٹل ادائیگی نظام اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم کی منتقلی کرتے تھے۔ رقوم کو خاص طور پر یو ایس ڈی ٹی کے ذریعے لانڈر کیا جاتا تھا تاکہ لین دین کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔

تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ گرفتار ملزمان کے درمیان ذمہ داریاں تقسیم تھیں۔ کچھ افراد کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھولے گئے تھے جبکہ دیگر ملزمان ان کھاتوں کا انتظام اور ٹرانزیکشنز کی نگرانی کرتے تھے۔ باقی افراد کرپٹو کرنسی کے ذریعے منی لانڈرنگ کا کام سنبھالتے تھے۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ مجموعی طور پر 197 بینک اکاؤنٹس چلا رہا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کامیاب کارروائی سے ریاست میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بابا صدیقی قتل کیس سے جڑے روابط سامنے آنے کے بعد دیگر ریاستوں اور ممکنہ جرائم کے زاویوں سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button