گوگل کی بڑی تبدیلی: جلد ویب سائٹس کھولنے کے لیے QR کوڈ اسکین کرنا لازمی ہو سکتا ہے
گوگل کا نیا QR کوڈ سسٹم مستقبل میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کا انداز مکمل طور پر بدل سکتا ہے
نئی دہلی 11 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل گوگل Google انٹرنیٹ سکیورٹی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی ایک ایسے جدید انسانی تصدیقی نظام پر کام کر رہی ہے جس میں صارفین کو ویب سائٹس کھولنے سے پہلے اپنے اسمارٹ فون سے QR کوڈ اسکین کرنا ہوگا۔ یہ نیا طریقہ مستقبل میں موجودہ reCAPTCHA سسٹم کی جگہ لے سکتا ہے۔
فی الحال بیشتر ویب سائٹس پر صارفین کو “میں روبوٹ نہیں ہوں” جیسے کیپچا ٹیسٹ مکمل کرنے پڑتے ہیں۔ ان ٹیسٹس میں عموماً ٹریفک لائٹس، بسوں یا دیگر تصاویر کی شناخت، مخصوص متن ٹائپ کرنا یا مختلف تصویری پہیلیاں حل کرنا شامل ہوتا ہے۔ ان طریقوں کا مقصد ویب سائٹس کو جعلی ٹریفک، اسپام اور خودکار بوٹس سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اور جدید خودکار بوٹس اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ اب وہ کئی اقسام کے کیپچا ٹیسٹ آسانی سے حل کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل ایک ایسا نیا نظام تیار کر رہا ہے جو حقیقی انسان اور خودکار بوٹ کے درمیان فرق زیادہ مؤثر انداز میں کر سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس نئے سسٹم میں جب کوئی صارف کسی ویب سائٹ پر جائے گا تو اس کی اسکرین پر ایک QR کوڈ ظاہر ہوگا۔ صارف کو اپنے موبائل فون سے اس QR کوڈ کو اسکین کرنا ہوگا۔ اس کے بعد اسمارٹ فون ویب سائٹ کو ایک ڈیجیٹل تصدیقی سگنل بھیجے گا جس سے یہ ثابت ہوگا کہ ویب سائٹ استعمال کرنے والا شخص حقیقی انسان ہے، کوئی بوٹ نہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ فون سے منسلک تصدیقی نظام موجودہ کیپچا کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے اصل ڈیوائس اور صارف کی شناخت کی بہتر تصدیق ممکن ہوگی۔ اس سے جعلی اکاؤنٹس، اسپام سرگرمیوں اور بوٹ حملوں میں نمایاں کمی آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فی الحال یہ فیچر ابتدائی آزمائشی مرحلے میں ہے اور گوگل نے ابھی تک اس حوالے سے مکمل باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کمپنی پہلے اسے محدود ویب سائٹس اور منتخب سروسز پر آزما سکتی ہے۔
دوسری جانب اس مجوزہ نظام نے پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ہر ویب سائٹ کے ساتھ فون کی تصدیق لازمی ہو گئی تو صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو ٹریک کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ کئی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے صارفین کی نجی معلومات اور براؤزنگ عادات متاثر ہو سکتی ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اگر گوگل کا یہ نظام کامیاب ثابت ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کا طریقہ نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتا ہے اور QR کوڈ پر مبنی انسانی تصدیق آن لائن سکیورٹی کا نیا معیار بن سکتی ہے۔



