قومی خبریں

NEET-UG 2026 امتحان منسوخ، سی بی آئی جانچ شروع، لاکھوں طلبہ میں بے چینی

NEET UG 2026 پیپر لیک تنازع کے بعد لاکھوں طلبہ کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

نئی دہلی 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک بھر کے لاکھوں طبی طلبہ میں بے چینی پیدا کرنے والے ایک بڑے فیصلے میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی این ٹی اے نے نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کر دیا ہے۔ 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے اس امتحان کے بعد پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے پر حکومت نے معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی کے سپرد کر دی ہے۔

این ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنے اور طلبہ کے ساتھ انصاف یقینی بنانے کے لیے امتحان دوبارہ کرانے کا فیصلہ لیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق نیٹ یو جی 2026 کی نئی تاریخوں، ایڈمٹ کارڈ اور دیگر تفصیلات کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ طلبہ اور والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔

این ٹی اے کے سربراہ ابھیشیک سنگھ نے ایک خصوصی گفتگو میں کہا کہ امتحان سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد فوری کارروائی کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ این ٹی اے امتحانی بدعنوانیوں کے معاملے میں “زیرو ٹالرینس پالیسی” پر عمل کر رہی ہے۔

ابھیشیک سنگھ کے مطابق 7 مئی کی رات ایک مخبر کی جانب سے ایسی معلومات دی گئی تھیں جن میں واٹس ایپ پر گردش کرنے والے سوالات نیٹ امتحان کے سوالات سے مشابہ دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے بعد 8 اور 9 مئی کو ان الزامات کی جانچ کی گئی، جبکہ 10 اور 11 مئی تک بعض دعووں کی تصدیق بھی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ امتحان والے دن کسی بڑے مسئلے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی، لیکن امتحان کی ساکھ پر معمولی سا شبہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگر لیک محدود دائرے تک بھی ہو تب بھی یہ ناقابل قبول ہے، کیونکہ اس سے ایماندار طلبہ متاثر ہوتے ہیں۔

ادھر راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی تحقیقات میں کئی اہم نکات سامنے آئے ہیں۔ اب تک 45 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ مختلف ریاستوں میں چھاپے اور پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔ ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سوالنامہ یا تو پرنٹنگ مرحلے کے دوران باہر پہنچا یا پھر امتحان کی تیاری سے وابستہ کسی شخص کے ذریعے لیک کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق امتحان سے قبل بعض طلبہ تک ایک مبینہ گیس پیپر پہنچایا گیا تھا، جس میں شامل سوالات کی بڑی تعداد اصل امتحان سے میل کھاتی تھی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تقریباً 720 نمبروں میں سے 600 نمبروں کے سوالات اصل سوالنامے سے لفظ بہ لفظ مطابقت رکھتے تھے۔

راجستھان ایس او جی کو انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہونے کے بعد دہرادون، سیکر اور جھنجھنو سمیت کئی مقامات پر کارروائیاں کی گئیں۔ اس دوران 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں ایک معروف کوچنگ ادارے سے وابستہ کیریئر کاؤنسلر بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ جانچ ایجنسیاں اس شبہے کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں کہ مبینہ سوالنامہ امتحان سے دو روز قبل منتخب طلبہ تک پہنچایا گیا تھا۔

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کے مطابق مبینہ سوالیہ مواد میں تقریباً 410 سوالات شامل تھے، جن میں سے قریب 150 سوالات اصل امتحان میں بھی موجود پائے گئے۔ چونکہ نیٹ یو جی امتحان میں ہر سوال 4 نمبروں کا ہوتا ہے، اس لیے اتنی بڑی تعداد میں سوالات کا مماثل ہونا انتہائی سنگین معاملہ تصور کیا جا رہا ہے۔

جانچ کا دائرہ اب جنوبی ہند تک بھی پھیل چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ گیس پیپر مواد کا تعلق ایک ایسے نوجوان سے جوڑا جا رہا ہے جو کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ مرکزی اور ریاستی جانچ ایجنسیاں اس پورے نیٹ ورک کی مختلف کڑیوں کو جوڑنے میں مصروف ہیں۔

پیپر لیک کے دائرہ کار سے متعلق سوال پر ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ اس کا حتمی فیصلہ سی بی آئی اپنی مکمل جانچ کے بعد کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرحلے پر کسی مخصوص مقام یا ادارے کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔

بعض اطلاعات میں مہاراشٹر کے ناسک میں واقع ایک پرنٹنگ پریس کا نام بھی سامنے آیا ہے، تاہم این ٹی اے چیف نے اس کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ پوری سپلائی چین کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

امتحان منسوخ کیے جانے کے بعد طلبہ اور والدین میں شدید ناراضی اور بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ ابھیشیک سنگھ نے اس صورتحال پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ایک والد ہیں اور طلبہ کی ذہنی کیفیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ برسوں محنت کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

این ٹی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دوبارہ امتحان کے لیے امیدواروں سے کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی اور داخلہ عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایجنسی کے مطابق امتحان سے پہلے، دورانِ امتحان اور بعد میں موصول ہونے والی ہر شکایت کی جانچ کی گئی۔ اسی دوران 120 سے زائد ٹیلیگرام چینلز بھی بند کیے گئے جو مبینہ طور پر فرضی یا لیک شدہ سوالات فراہم کرنے کے دعوے کر رہے تھے۔

نیٹ یو جی تنازعے نے ایک بار پھر ملک کے بڑے داخلہ امتحانات کی سکیورٹی اور اعتبار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہر سال 20 لاکھ سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں، اور گزشتہ برسوں میں مختلف امتحانات میں سامنے آنے والے نقل، دھوکہ دہی اور پیپر لیک جیسے معاملات کے بعد سخت نگرانی اور مضبوط قانونی اقدامات کا مطالبہ مزید تیز ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button