
دہلی بس اجتماعی عصمت دری معاملہ: خاتون کو بس میں کھینچ کر زیادتی، ڈرائیور اور کنڈکٹر گرفتار
الزام ہے کہ ملزم خاتون کو زبردستی بس کے اندر کھینچ کر لے گیا
نئی دہلی 14 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دارالحکومت دہلی سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سلیپر بس میں خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ متاثرہ خاتون کی شکایت پر دہلی پولیس نے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ واقعے میں استعمال ہونے والی بس کو بھی ضبط کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ دو روز قبل منگل کی شب پیش آیا۔ متاثرہ خاتون ایک فیکٹری میں کام مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جارہی تھی۔ وہ سرسوتی وہار کے بی بلاک بس اسٹینڈ پر پہنچی جہاں اس نے ایک شخص سے سفر کے وقت کے بارے میں دریافت کیا، جو ایک سلیپر بس کے قریب کھڑا تھا۔ الزام ہے کہ ملزم خاتون کو زبردستی بس کے اندر کھینچ کر لے گیا جہاں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ متاثرہ کے مطابق واردات کے بعد اسے بس سے باہر پھینک دیا گیا۔ پولیس نے خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے اور طبی معائنہ کرانے کے بعد مقدمہ درج کیا۔ ابتدائی جانچ کے فوراً بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ مقدمہ دہلی کے رانی باغ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 64(1)، 70(1) اور 3(5) کے تحت کیس درج کیا ہے، جو عصمت دری، اجتماعی عصمت دری اور مشترکہ سازش سے متعلق دفعات ہیں۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس بس میں یہ واردات پیش آئی وہ کئی ضابطوں کی خلاف ورزی کررہی تھی۔ بس کی کھڑکیوں پر سیاہ فلم لگی ہوئی تھی جبکہ ایمرجنسی گیٹ بھی موجود نہیں تھا، جو ٹرانسپورٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی مانی جاتی ہے۔ پولیس نے بس کی ویڈیوز اور تصاویر بھی اپنے قبضے میں لے لی ہیں اور معاملے کی مزید جانچ جاری ہے۔



