چین کے گاؤکاؤ امتحان کا پیپر لیک کیوں نہیں ہوتا؟ جانئے دنیا کے سخت ترین سیکیورٹی نظام کا راز
چین کے گاؤکاؤ امتحان کا پیپر لیک کیوں نہیں ہوتا؟ جانئے دنیا کے سخت ترین سیکیورٹی نظام کا راز
بیجنگ 15 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مسابقتی امتحانات کے پیپر لیک ہونے کے واقعات بار بار سامنے آتے رہتے ہیں، جس سے لاکھوں طلباء کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ حالیہ NEET UG 2026 امتحان لیک معاملے نے بھی پورے ملک کو چونکا دیا۔ ایسے ماحول میں چین کا گاؤکاؤ امتحان دنیا بھر میں اپنی سخت سیکیورٹی اور شفاف نظام کی وجہ سے الگ شناخت رکھتا ہے۔
گاؤکاؤ چین کا قومی داخلہ امتحان ہے جسے دنیا کے مشکل ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر سال تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ طلباء اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ اس امتحان کے نتائج اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ طالب علم کو ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں میں داخلہ ملے گا یا نہیں۔
چین میں گاؤکاؤ امتحان کے سوالیہ پرچے تیار کرنے کا عمل انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے۔ امتحان سے کئی ماہ قبل ماہرین اور اساتذہ کی ایک خصوصی ٹیم کو الگ تھلگ مقام پر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں ان کا بیرونی دنیا سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا جاتا ہے۔ ان کے موبائل فون تک ضبط کر لیے جاتے ہیں تاکہ معلومات کے اخراج کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
سوالیہ پرچوں کی چھپائی عام پرنٹنگ پریس میں نہیں بلکہ سخت نگرانی والے جیل پرنٹنگ مراکز میں کی جاتی ہے۔ پرنٹنگ کے دوران موجود عملے کو امتحان مکمل ہونے تک باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کے بعد سوالیہ پرچوں کو جی پی ایس سے لیس خصوصی گاڑیوں اور مسلح پولیس کی نگرانی میں امتحانی مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔
امتحان شروع ہونے کے بعد امتحانی مراکز کے اطراف غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں جبکہ ڈرون یا دیگر سگنل آلات کے استعمال کو روکنے کے لیے پورے علاقے کو "نو فلائی زون” قرار دے دیا جاتا ہے۔
دھوکہ دہی روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ امتحانی مراکز میں ہائی ٹیک سگنل جیمرز نصب کیے جاتے ہیں تاکہ موبائل فون، بلوٹوتھ اور دیگر الیکٹرانک آلات کام نہ کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے اور چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی امتحانی ہال میں ہر طالب علم کی سرگرمی پر نظر رکھتی ہے۔
چین میں امتحانی قوانین کی خلاف ورزی پر انتہائی سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اگر کوئی طالب علم نقل کرتے ہوئے پکڑا جائے تو اسے تین سال تک کسی بھی قومی امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملتی۔ جبکہ پیپر لیک یا منظم دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو سات سال سے عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ بعض غیر معمولی معاملات میں انتہائی سخت قانونی کارروائی بھی ممکن ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین نے امتحانی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سخت نگرانی اور سخت قوانین کا ایسا امتزاج قائم کیا ہے جس کی وجہ سے گاؤکاؤ امتحان میں پیپر لیک ہونا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔



