گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ، ہجومی تشدد بند ہونا چاہئے: ارشد مدنی
جب یکساں سول کوڈ کی بات ہوتی ہے تو جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین بھی پورے ملک میں ایک جیسے ہونے چاہئیں۔
نئی دہلی 20 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جمعیۃ علماء ہند کے صدر ارشد مدنی نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گائے کے نام پر ہونے والے ہجومی تشدد، نفرت انگیز ماحول اور بے قصور افراد کے قتل جیسے واقعات فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سلسلے میں پورے ملک کے لیے یکساں قانون نافذ کیا جائے تو تنازعات اور کشیدگی میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی بڑی آبادی گائے کو نہایت مقدس مانتی ہے اور اسے احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار نہ دینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو سیاسی مفادات کے بجائے سماجی ہم آہنگی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔
ارشد مدنی نے کہا کہ گائے کے نام پر ہجومی تشدد اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ملک کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر گائے سے متعلق سخت اور یکساں قانون پورے ملک میں نافذ کیا جائے تو نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ مذہبی بنیادوں پر نفرت کی سیاست کو بھی روکا جاسکے گا۔
انہوں نے مختلف صوبوں میں گائے کے ذبیحہ اور گوشت سے متعلق الگ الگ قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض ریاستوں میں گائے کا گوشت کھلے عام فروخت ہوتا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں اسی معاملے کو بنیاد بنا کر تشدد اور اشتعال انگیزی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال دوہرے معیار کی عکاسی کرتی ہے اور اس سے سماجی تقسیم کو تقویت ملتی ہے۔
یکساں سول کوڈ کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ارشد مدنی نے کہا کہ جب پورے ملک میں ایک قانون کی بات کی جاتی ہے تو جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین بھی یکساں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف اور برابری کا تقاضا یہی ہے کہ کسی بھی قانون کا نفاذ تمام ریاستوں میں ایک ہی انداز میں کیا جائے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ حکومت کو ایسا حل تلاش کرنا چاہئے جس سے مذہبی جذبات کا احترام بھی برقرار رہے اور ملک میں امن و امان، بھائی چارہ اور انسانی جانوں کا تحفظ بھی یقینی بنایا جاسکے۔



