7 منٹ میں کینسر کا علاج؟ بھارت میں نئے انجکشن کی منظوری، مریضوں کے لیے امید کی کرن
سات منٹ میں لگنے والا نیا انجکشن کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کو نسبتاً آسان بنا سکتا ہے۔
نئی دہلی 20 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارت میں کینسر کے مریضوں کے لیے ایک اہم طبی خبر سامنے آئی ہے۔ ملک کے ڈرگ ریگولیٹر سی ڈی ایس سی او نے معروف دوا ساز کمپنی روشے (Roche Pharma )کی نئی دوا “ٹیسینٹرک Tecentriq SC” انجکشن کو منظوری دے دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ انجکشن کینسر کے علاج کے روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ آسان اور کم وقت لینے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
ممبئی کے کینسر ماہر ڈاکٹر رمن نارنگ کے مطابق امیونو تھراپی کے تحت دی جانے والی دوائیں عموماً نس کے ذریعے چڑھائی جاتی ہیں، جس میں تیس منٹ سے ایک گھنٹے تک کا وقت لگتا ہے۔ تاہم نئے ٹیسینٹرک انجکشن کو صرف سات منٹ میں جلد کے نیچے لگایا جا سکتا ہے، جس سے مریضوں کو طویل انتظار اور اسپتال میں زیادہ وقت گزارنے سے راحت ملنے کی امید ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی کیموتھراپی براہ راست کینسر کے خلیات پر حملہ کرتی ہے، لیکن اس عمل میں جسم کے صحت مند خلیات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے مریضوں کو بال گرنے، شدید کمزوری، متلی، قے اور تھکن جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق نیا انجکشن امیونو تھراپی کے اصول پر کام کرتا ہے۔ یہ جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے تاکہ وہ کینسر کے خلیات کو پہچان کر ان کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کے ذریعے کینسر کے خلیات جسم میں چھپنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے اور مدافعتی نظام انہیں نشانہ بناتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباً چودہ سے پندرہ لاکھ نئے کینسر مریض سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں سات منٹ میں لگنے والا یہ انجکشن ہزاروں مریضوں کے لیے علاج کو نسبتاً آسان بنا سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو دور دراز علاقوں سے علاج کی غرض سے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔
تاہم اس علاج کی قیمت عام مریضوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک انجکشن کی قیمت تقریباً تین لاکھ ستر ہزار روپے ہے جبکہ مکمل علاج کے لیے کم از کم چھ خوراکیں درکار ہوتی ہیں۔ اس طرح صرف دوا پر مجموعی خرچ بائیس لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے، جو متوسط آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے انتہائی دشوار سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ انجکشن ہر مریض کے لیے موزوں نہیں ہوگا۔ اس کے ممکنہ مضر اثرات میں بخار، کمزوری، سانس لینے میں دشواری، جلدی مسائل اور پھیپھڑوں میں سوزش شامل ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ کسی بھی مریض کو یہ علاج صرف ماہر معالج کی نگرانی میں ہی دیا جانا چاہیے۔
طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کوئی جادوئی علاج نہیں، لیکن کینسر کے طویل اور تکلیف دہ علاج کے دوران مریضوں کے لیے ایک اہم سہولت ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔



