سرورققومی خبریں

دہلی فسادات کیس: عمر خالد کو والدہ کی سرجری میں شرکت کے لیے تین دن کی عبوری ضمانت

والدہ کی سرجری کے پیش نظر عدالت نے ہمدردانہ نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے عمر خالد کو تین دن کی عبوری ضمانت دی۔

نئی دہلی 22 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو دہلی فسادات کیس میں گرفتار عمر خالد کو اپنی والدہ کی سرجری کے سلسلے میں تین دن کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے انہیں یکم جون سے تین جون تک راحت فراہم کی ہے۔

عدالت نے عمر خالد کو ایک لاکھ روپے کے شخصی مچلکے پر عبوری ضمانت دی۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ضمانت کی مدت کے دوران وہ قومی راجدھانی خطے کے اندر ہی رہیں گے، گھر پر قیام کریں گے اور صرف اسپتال جانے کی اجازت ہوگی۔

جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ چونکہ اپیل کنندہ کی والدہ کی سرجری ہونے والی ہے، اس لیے عدالت ہمدردانہ بنیاد پر تین دن کی عبوری ضمانت دینے کے لیے آمادہ ہے تاکہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ وقت گزار سکیں۔

عمر خالد نے سیشن عدالت کی جانب سے 19 مئی کو عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ انہوں نے عدالت سے پندرہ دن کی عبوری ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے چچا کی وفات کے بعد چالیسویں کے مراسم میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور اپنی والدہ کی دیکھ بھال بھی کرنا چاہتے ہیں، جن کی سرجری ہونے والی ہے۔

سیشن عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعزیتی تقریب میں شرکت اتنی ضروری نہیں ہے اور خاندان کے دیگر افراد ان کی والدہ کی دیکھ بھال کرسکتے ہیں۔

دہلی پولیس نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سرجری معمولی نوعیت کی ہے، اس لیے عبوری راحت دیے جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ پولیس کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے عدالت کو تجویز دی کہ عمر خالد کو پولیس تحویل میں مختصر وقت کے لیے والدہ سے ملاقات کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

عمر خالد کو دہلی پولیس نے 13 ستمبر 2020 کو غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان پر شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔

اس مقدمے میں عمر خالد پر قتل، بغاوت اور مجرمانہ سازش سمیت تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ وہ طویل عرصے سے تہاڑ جیل میں قید ہیں اور اب تک ان کا مقدمہ مکمل نہیں ہوسکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button