تلنگانہ میں شدید گرمی کی لہر، 34 افراد ہلاک، کئی اضلاع میں ریڈ الرٹ
ریاست کے 244 منڈلوں میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی۔
حیدرآباد 23 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے تباہ کن صورت اختیار کرلی ہے جہاں مختلف اضلاع میں کم از کم 34 افراد کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرگیا جبکہ محکمہ موسمیات نے متعدد اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ریاست کے 244 منڈلوں میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی۔ آصف آباد ضلع کے سرپور (ٹی) میں سب سے زیادہ 46.5 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت درج کیا گیا۔ اس سے قبل جمعرات کو بھی کم از کم 22 افراد ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی کے باعث جان کی بازی ہار چکے تھے۔
مرنے والوں میں معمر افراد، طلبہ، کسان، زرعی مزدور اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے شامل ہیں۔ محبوب آباد ضلع میں تین افراد کی موت واقع ہوئی جن میں 89 سالہ کیسا لچھما، 54 سالہ خاتون کسان گوگولوٹھو امرتھا اور 95 سالہ گاڈے کومورما شامل ہیں۔
ہنمکنڈہ ضلع میں 25 سالہ گنوج انیل کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ لو لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ بھوپال پلی ضلع میں زرعی مزدور نمپلی سکما جبکہ قاضی پیٹ میں مقیم دوداپاکا پوچیا بھی شدید گرمی کا شکار ہوگئے۔
ملوگو ضلع میں 85 سالہ مداری لکشمی سمیت کئی اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ سوریہ پیٹ ضلع کے 17 سالہ طالب علم بومیدی وینکٹیش بھی جانبر نہ ہوسکے۔ اسی طرح نلگنڈہ، کریم نگر، جگتیال، کھمم، میدک اور دیگر اضلاع سے بھی اموات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
جمعہ کے روز گرمی کی شدت میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔ عادل آباد ضلع میں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں۔ نظام آباد، جگتیال، کریم نگر، منچریال، سرسلہ، پیڈاپلی اور سوریہ پیٹ سمیت کئی اضلاع میں درجہ حرارت 46.2 سے 46.4 ڈگری سیلسیس کے درمیان ریکارڈ کیا گیا۔
رات کے اوقات میں بھی نمی کی کمی کے باعث گرمی میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں کی گئی جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے 18 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو دوپہر کے اوقات میں دھوپ سے بچنے، زیادہ پانی پینے اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
تلنگانہ حکومت نے ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی اموات پر معاوضہ 50 ہزار روپے سے بڑھاکر 4 لاکھ روپے کردیا ہے۔ ساتھ ہی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ بیرونی مقامات پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات اور ٹھنڈک والے وارڈ قائم کیے جائیں۔



