اقوام متحدہ میں پاکستان کو بھارت کا سخت جواب، کشمیر پر دوٹوک مؤقف دہرایا
بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیر معاملے پر پاکستان کو سخت جواب دیا
نیویارک 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے بیان کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر مکمل طور پر اس کا داخلی معاملہ ہے اور اس حوالے سے پاکستان کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے پاروتھنی ہریش نے سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر ہونے والے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے ایک اہم پلیٹ فارم کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سلامتی کونسل کی رکنیت ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اس فورم کو گمراہ کن بیانیے پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاروتھنی ہریش نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے بارے میں دیا گیا بیان بھارت کے ایک خالص داخلی معاملے میں مداخلت کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں اپنی رکنیت کے دوران بھی کئی مرتبہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی اطلاعات پھیلانے کی کوشش کی۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے اجلاس کے دوران کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس تنازع کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
بھارتی نمائندے نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو کسی بھی بیان یا دعوے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کے الزامات زمینی حقائق کو نہیں بدل سکتے۔
انہوں نے پاکستان کو یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی رکنیت ایک بڑی ذمہ داری ہے اور ایسے عالمی فورمز کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ بھارتی مندوب کے مطابق پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیانات حقیقت کے منافی ہیں اور ان سے خطے کی صورتحال تبدیل نہیں ہو سکتی۔
اس دوران بھارت کی وزارتِ خارجہ نے گلگت بلتستان میں 7 جون کو مجوزہ انتخابات پر بھی سخت اعتراض ظاہر کیا۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے جس پر پاکستان نے غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے، اس لیے وہاں انتخابات کا انعقاد ناقابل قبول ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایسے اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی دباؤ، معاشی استحصال اور بنیادی آزادیوں سے محرومی جیسے مسائل کو چھپا نہیں سکتے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے زیر قبضہ علاقوں میں کسی بھی قسم کی انتظامی یا سیاسی تبدیلی کو بھارت تسلیم نہیں کرتا۔
اجلاس کے دوران بھارت نے ایک بار پھر سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی دہرایا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات کے مطابق سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ یہ ادارہ زیادہ نمائندہ اور مؤثر بن سکے۔
بھارت نے مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں ارکان کی تعداد بڑھانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام سلامتی کونسل کو مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں بنا سکا ہے۔
بھارتی نمائندے نے اس موقع پر آئندہ مدت کے لیے سلامتی کونسل کے منتخب ہونے والے نئے ارکان آسٹریا، کرغیزستان، پرتگال، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور زمبابوے کو مبارک باد بھی پیش کی۔
دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات ایک داخلی معاملہ ہیں اور بھارت کے بیانات بے بنیاد ہیں۔
PR @AmbHarishP delivered 🇮🇳’s statement at the @UN General Assembly Plenary on Annual Report of the Security Council.
Full remarks here: https://t.co/7ezoeMjYJ1
@MEAIndia @IndianDiplomacy @PMOIndia @PIB_India pic.twitter.com/QWaDkTacmm— India at UN, NY (@IndiaUNNewYork) June 5, 2026



