
اعظم خاں کو ناکردہ گناہوں کی سزا کیوں؟-✍️کپل_سبل
اعظم خاں، ہندوستانی سیاست، جمہوریت اور مبینہ سیاسی مقدمات
ہندوستان کی سیاست کا نقشہ کچھ برسوں کے دوران تبدیل ہوچکا ہے۔ چاہے مرکزی حکومت ہو یا بی جے پی کی ریاستی حکومتیں ہوں ان کا مقصد ایک ہی رہتا ہے کہ کسی بھی طریقہ سے اور کچھ بھی ہوجائے انتخابات میں کامیابی حاصل کی جائے۔
کوئی بھی سازش استعمال کی جائے تاکہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی جائے اور سب سے پہلے تو وہ ادارں پر قبضہ کرتے ہیں، میڈیا پر تو قبضہ کرچکے ہیں اور پھر وہ اپوزیشن کے خاص خاص لوگ ہیں۔ اپوزیشن کے ان پر مقدمات درج کرتے ہیں جو اکثر جھوٹے ہوتے ہیں تاکہ وہ عدالتوں میں جاتے رہے ہیں اپنی ضمانتیں کرواتے رہیں، ان کو جیلوں میں بند بھی کیا جاتا ہے اور دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے کہ آپ اپنا رویہ بدلئے۔
تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کہیں بھی ہو اگر کانگریس کی ریاستی حکومتیں ہوں تو ان کے چیف منسٹرس کے خلاف کیس چلائے جاتے ہیں اور ریاستوں میں حکومتیں ہوتی ہیں تو جو اپوزیشن لیڈر ہیں یا اپوزیشن کے اہم قائدین ہیں ان کے خلاف جھوٹے کیس درج کئے جاتے ہیں۔
اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ انتظامیہ اور تحقیقاتی ایجنسی، پولیس جو تحقیقات کرتی ہے وہ تحقیقاتی ایجنسیز انتظامیہ کے اشارے پر چلتی ہیں۔ جھوٹا کیس بنانا ہو تو بن جائے گا اور کیس اگر درج نہیں ہوتا ہو، اس کے باوجود پھر بھی درج ہوگا۔ ایف آئی آر ہوجائے گی اور پھر اس کی تحقیقات ہوگی جھوٹے بیان دے کر ایک چارج شیٹ بھی فائل ہوجائے گی تاکہ وہ لڑتا رہے۔
اتنی دیر میں تحت کی جو عدالتیں ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ وہ خاطی قرار دے دیتی ہیں۔ راقم آپ کے اوپر چھوڑتا ہے لیکن ملک کی سیاست میں ایسی تبدیلی آئی ہے کہ جمہوریت کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔
آج ہم اترپردیش کی سیاست کے اہم کردار یو پی کی ایک اہم شخصیت اعظم خاں صاحب کی بات کرتے ہیں۔
جہاں تک اعظم خاں کا سوال ہے۔ راقم کو پتہ چلا کہ وہ وکیل بھی رہے۔ 1974 میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور زمانے طالب علمی سے ہی سیاست میں رہے اور اے ایم یو اسٹوڈنٹ یونین کے جنرل سکریٹری بھی تھے اور مجھے اس بات کا بھی پتہ نہیں تھا کہ ایمرجنسی میں اعظم خاں جیل بھی گئے۔
اعظم خاں نے بحیثیت وکیل مزدوروں کے حقوق، رکشہ والوں کے حقوق، بیڑی ورکرس کے حقوق ٹیکسٹائلز انڈسٹری کے مزدوری کی لڑائی لڑی اور پھر جب سیاست میں داخل ہوئے تو سماج وادی پارٹی کے بانی رہے۔ ملائم سنگھ یادو کے ساتھ مل کر سماج وادی پارٹی کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اس مرتبہ رام پور سے انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی، ان کی اہلیہ اور فرزند کو بھی اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا اعزاز حاصل ہے۔ رام پور سے لوک سبھا کیلئے منتخب بھی ہوئے۔ ریاستی حکومت میں اہم وزیر بھی رہے، چار مرتبہ خود اعظم خاں کے مطابق جناب کی سیاسی عمر، ان کی عمر سے زیادہ ہے۔
1980 سے لے کر 1992 تک کئی پارٹیاں بھی بدلی۔ پہلے جنتا پارٹی میں تھے، وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی تو چودھری چرن سنگھ صاحب کے ساتھ جا ملے، پھر جنتا دل میں گئے۔ اس بارے میں اعظم خاں مزید کہتے ہیں جہاں جہاں ملائم سنگھ گئے وہ ان کے ساتھ گئے۔
اعظم خاں کے مطابق جب بیگم حضرت محل پارک میں تاریخی اجلاس ہوا جہاں سماج وادی پارٹی کے بننے کا اعلان ہوا تب اس کا دستور بھی میں نے ہی بنایا تھا اور ایسا انہوں نے بتایا کہ ان کی اپنی ذاتی حیثیت کیا ہوگی، پارٹی میں اور ہندوستان میں۔
جس طرح کبھی مولانا محمد علی جوہر سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کا مذہب کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں پہلا مسلمان، میں دوسرا مسلمان اور میں آخری مسلمان لیکن اگر کوئی مجھ سے میری وطنیت پوچھے گا تو میں کہوں گا کہ میں پہلا ہندوستانی، میں دوسرا ہندوستانی اور میں آخری ہندوستانی۔ یہ میں نے اپنی حیثیت اسی دن واضح کردی تھی کہ میرے جینے کا طریقہ یہ ہوگا تاکہ سماج یہ جان لے کہ اگر انہیں میرے خیالات سے اتفاق ہو تو مجھے ووٹ دیں نہ ہو تو نہ دیں کیونکہ سب کو اپنے عقائد پر قائم رہنے کا حق دستور بھی دیتا ہے اور ہر شخص کا مذہب بھی دیتا ہے۔ ہمارا سماج بھی دیتا ہے، کوئی کسی سے بھی زبردستی نہیں کرتا۔
وہ مزید بتاتے ہیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں جو پہلی تقریر کی تھی، اس میں یہی کہا تھا کہ اگر کوئی نعرہ تکبیر اللہ اکبر اس لئے کہے کہ پڑوس میں سوتے ہوئے بچے اٹھ جائیں اور دہشت پھیل جائے تو میں کہوں گا کہ یہ اسلام کا نعرہ نہیں ہے لیکن کوئی ہر ہر مہا دیو کا نعرہ لگائے گا دہشت پھیلانے کیلئے تو میں کہوں گا کہ یہ دھرم کا نعرہ نہیں ہے۔ تو اس سوچ کو لے کر ہم نے سماج وادی پارٹی بنائی تھی۔
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے بارے میں سوال پر اعظم خاں نے کچھ یوں بتایا، ’’وہ دراصل ایسا ہوا کہ جب سماج وادی پارٹی کی پہلی حکومت بنی میں لیبر منسٹر بھی رہا، میں بیڑی مزدوروں کے ساتھ بھی بیٹھتا تھا، دراصل ہماری لڑائی جاگیر دارانہ نظام کے خلاف تھی اور ہمارے یہاں مزدور تھے، بیڑی بناتے تھے یا رکشہ چلانے والے بہت زیادہ تھے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر جب میں نے بیڑی مزدوروں کی ہڑتال کرائی تو 30 دن سے زیادہ ہرتال چلنے کی وجہ سے بھوک مری پھیل گئی لیکن مالکین نے اجرت نہیں بڑھائی۔ میں نے جب ان سے درخواست کی کہ ایک پیسہ بڑھادیجئے تو مالکین نے کہا کہ ہم بڑھا تو دیتے لیکن ایک پیسہ بڑھانے سے مزدور کی ہمت بڑھ جائے گی‘‘۔
اتفاق یوں ہوا کہ جب اگلا الیکشن ہوا حکومت بنی اور ان ہی مالکین سے 45 روپیہ اجرت میں بڑھائے تھے۔
اترپردیش میں رکشوں کو بدل کر ہم حکومت کی طرف سے آٹو رکشا دیں گے یہ میرا کانسیپٹ تھا۔ سارے اترپردیش میں ہم نے رکشہ لے کر آٹو رکشا دیا تھا کیونکہ غربت کا ایک تیر چبھا ہوا تھا، میرے دل میں اسے نکالنے کی کوشش کی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اعظم خاں کا کہنا تھا کہ وہ ایمرجنسی میں پونے دو سال تک جیل میں رہے، وہ کہتے ہیں وہ دراصل محمد یونس خاں صاحب افغان پٹھان تھے۔ میرے نام میں بڑوں نے خان کیوں لگادیا تھا یہ تو نہیں معلوم لیکن وہ واقعی نسلی پٹھان تھے۔
اس سال کچھ ایسا ہوا کہ میں بھی رکن تھے، اے ایم خسرو وائس چانسلر ہوا کرتے تھے، میٹنگ ہورہی تھی اور اس سال مسلمان طلبہ بڑی تعداد میں بڑی اچھی پرینٹیج لے کر آئے تھے، میں چاہتا تھا کہ سیکشن بڑھادیئے جائیں۔
یونس خاں نے مخالفت کی۔ طلبہ نے سارا کیمپ گھیر رکھا تھا۔ ہزاروں طلبہ تھا، ڈر یہ تھا کہ تصادم نہ ہوجائے، میں نے کچھ مشورہ دیا۔ یونس خاں نے ہلکی بات کہی ظاہر ہے ہلکی بات کا بھاری جواب دینا تھا۔ وہ ناراض ہوگئے۔
اس وقت ایمرجنسی لگ گئی اور یونس خاں صاحب نے ہمیں گرفتار کروایا اور ایسی کوٹھری میں مجھے رکھوایا وہ کوٹھی میری نصیب کا حصہ بن گئی جس میں سندر ڈاکو رہتا تھا جسے بعد میں پھانسی ہوئی تھی۔ بڑی تکلیف وہ کوٹھری تھی، زمین کے اندر تھی، اس وقت اعظم خاں ایل ایل ایم فائنل ایئر کے طالب علم تھے۔
الزام ملک دشمنی کا تھا۔ ضمانت ملی تو میسا (MISA) کے تحت گرفتار کیا گیا اور ماں ملنے آئیں تو آئینہ میں مجھے اور انہیں دکھادیا گیا اور اس مرتبہ بھی اسی طرح کی تکلیف ہوئی۔
سیتاپور جیل میں مجھے بیوی اور بیٹے عبداللہ کو رکھا گیا۔ وہ کہتے ہیں، میں اور عبداللہ ایک چھوٹی سی کوٹھری میں رکھے گئے اور بیوی کو زنانہ بیرک میں بھیج دیا گیا لیکن ایک جیل میں تھے تو اطمینان تھا کہ محفوظ ہیں۔
لیکن اس بار حکومت نے یہ طئے کیا کہ وہ تین ایک جگہ تھے تو مل لیا کرتے تھے، لاؤ دل کے ان ٹکڑوں کو بھی منتقل کردیا جائے تو بیوی کو وہیں روکا اور ہم لوگوں کو جیل سے باہر لایا گیا، وہ بھی نیند سے اٹھاکر۔
جب ہم دونوں گلے ملے، میں نے کہا کہ بیٹے زندگی رہے گی تو ملیں گے ورنہ اوپر ملیں گے۔ وہ رات بہت مشکل سے گزری۔
اعظم خاں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سارے مقدمات فرضی ہیں۔
اس سوال پر کہ آخر آپ سے حکومت کی اس قدر دشمنی کیوں ہے؟ اعظم خاں کا جواب تھا کہ کچھ تو میرے اندر ہوگا لیکن ایک بات ہے کہ ان سارے مقدمات کے باوجود کمیشن خوری کا، رشوت کا، بے ایمانی کا ایک بھی داغ نہیں ہے۔ اس دامن پر ایک بھی مقدمہ نہیں ہے۔
حد تو یہ ہے کہ مرغی چوری مقدمہ میں 21 سال کی سزا، 36 لاکھ روپئے جرمانہ، صرف ایک مقدمہ میں مجھے تو قدرت سے کئی لاکھ سال کی عمر لکھا کر لانی پڑے گی۔
جہاں تک آج کے سیاسی حالات کا سوال ہے، پہلے عوام ووٹ دیا کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ حکومت چلانے والے ووٹ مانگتے نہیں، ووٹ چھین لیتے ہیں۔ پورے محلہ بند کردیئے گئے، گھروں میں باہر سے قفل لگادیئے گئے۔ لاٹھی چارج ہوا، داروغہ لوگ بندوق لے کر دوڑے، ایسے میں کون ووٹ ڈالنے نکلے گا۔
اب اس طرح ڈرایا جاتا ہے، دھمکایا جاتا ہے۔ میرا چھوٹا سا شادی گھر تھا، وہ میرے بچوں کی روزی روٹی کا ذریعہ تھا۔ پولیس نے اسے بھی ویران کردیا۔
حد تو یہ ہے کہ میں گھر فروخت کرنا چاہتا ہوں تو کوئی مجھ سے گھر نہیں خرید رہا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ 19 سال بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔
| ڈسکلیمر: یہ مضمون مصنف کے ذاتی تجزیے اور آراء پر مبنی ہے۔ اس میں بیان کیے گئے خیالات لازماً UrduDuniyaNews کی ادارتی پالیسی یا مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ ادارہ ان آراء کا ذمہ دار نہیں ہے۔ |



