بین ریاستی خبریںسرورق

مغربی بنگال: 2025 میں ریکارڈ تعداد میں برتھ سرٹیفکیٹس جاری، حکومت نے جانچ کا حکم دے دیا

2025 میں غیر معمولی تعداد میں جاری ہونے والے برتھ سرٹیفکیٹس کے معاملے پر ریاست گیر جانچ شروع

کولکاتا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال حکومت نے 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران 2025 میں جاری ہونے والے برتھ سرٹیفکیٹس کی غیر معمولی تعداد سامنے آنے کے بعد ریاست گیر جانچ کا آغاز کر دیا ہے۔

 حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزے میں کئی بے ضابطگیوں کے اشارے ملنے پر ریاست بھر کی میونسپلٹیوں اور پنچایتوں سے پیدائش اور اموات کے اندراج سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ہر اندراج کی تصدیق کی جا سکے۔

ریاستی حکومت کے مطابق اس کارروائی کا مقصد جعلی دستاویزات کی نشاندہی اور سرکاری ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنانا ہے۔ چیف سیکریٹری منوج کمار اگروال نے واضح کیا کہ قانونی طریقے سے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی، تاہم اگر کوئی شخص جعلی دستاویزات کے ذریعے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا ذمہ دار پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے کولکاتا میونسپل کارپوریشن سمیت مختلف بلدیاتی اداروں میں ریکارڈ کا جائزہ لیا، جہاں برتھ اور ڈیتھ رجسٹر، کمپیوٹر ڈیٹا اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں موصول ہونے والی شکایات اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، جبکہ حتمی نتیجہ مکمل تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

ریاستی حکومت نے آئندہ برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس کے اجرا کا نظام بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت منتخب عوامی نمائندے یہ سرٹیفکیٹس جاری نہیں کر سکیں گے اور یہ اختیار صرف نامزد سرکاری افسران کے پاس ہوگا تاکہ شفافیت اور جوابدہی برقرار رہے۔

سرکاری حکام کے مطابق انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے بعد حکومت کو جعلی برتھ سرٹیفکیٹس کے استعمال سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ ان اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض افراد نے انہی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر دیگر شناختی دستاویزات حاصل کیے۔ اس معاملے کے بعض مقدمات کلکتہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں جبکہ سی آئی ڈی بھی الگ سے تحقیقات کر رہی ہے۔

ابتدائی جانچ کے دوران تاخیر سے جاری کیے گئے ہزاروں برتھ سرٹیفکیٹس کی جانچ کی گئی، جن میں ایک بڑی تعداد مشتبہ قرار دی گئی۔ اسی طرح لاکھوں ڈیجیٹل ریکارڈز کے نمونہ جاتی جائزے میں بھی بڑی تعداد میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد حکومت نے پورے ریاستی ریکارڈ کی مرحلہ وار جانچ شروع کر دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں ایک لاکھ اکیس ہزار سے زائد اور 2024 میں تین لاکھ اکیاسی ہزار سے زیادہ برتھ سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر دس لاکھ پچاس ہزار سے تجاوز کر گئی، جسے حکومت نے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا ہے۔

اس معاملے نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے سیاسی فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کو برتھ سرٹیفکیٹس کے معاملے سے جوڑنا درست نہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس پورے معاملے کی اصل تصویر واضح ہو سکے گی

متعلقہ خبریں

Back to top button