
تلنگانہ میں خصوصی ووٹر نظرِ ثانی: تاحال 24 لاکھ ووٹ منسوخ ہونے کی نشاندہی، 6.5 لاکھ متوفی اور 12 لاکھ منتقل ووٹرز شامل
ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد منسوخ ووٹوں کی تعداد بڑھنے کا امکان
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)تلنگانہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی جامع نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) مہم کے دوران ووٹر لسٹ کی فیلڈ تصدیق میں بڑی تعداد میں ایسے اندراجات سامنے آئے ہیں جن پر کارروائی متوقع ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 24 لاکھ ووٹرس ایسے پائے گئے ہیں جن کے انیومریشن فارم جمع نہیں ہو سکے یا جن کی تصدیق مکمل نہیں ہو سکی، جس کے باعث ان کے نام ابتدائی ووٹر فہرست سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے آن لائن پورٹل پر بی ایل اوز (Booth Level Officers) کی جانب سے اپ لوڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 6.50 لاکھ متوفی افراد کے نام اب بھی ووٹر لسٹ میں درج ہیں، جبکہ 12 لاکھ سے زائد ووٹرس مستقل طور پر دیگر علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 2.60 لاکھ ڈپلیکیٹ ووٹرز کی نشاندہی ہوئی ہے جن کے نام ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ تقریباً 78 ہزار ووٹرس اپنے درج شدہ پتوں پر موجود نہیں ملے۔
حکام کے مطابق دوہری رجسٹریشن، شادی یا ملازمت کے باعث رہائش کی تبدیلی، دستاویزات کی عدم فراہمی اور دیگر تکنیکی وجوہات کے سبب متعدد انیومریشن فارم آن لائن جمع نہیں ہو سکے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ووٹرس کے نام ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 3 اگست تک جاری رہنے والی مہم کے دوران اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ریاست میں رجسٹرڈ 3 کروڑ 38 لاکھ 26 ہزار 448 ووٹرس میں سے اب تک 2.41 کروڑ (71.34 فیصد) ووٹرس کے فارم کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹلائز کیے جا چکے ہیں۔
ڈیجیٹلائزیشن کی رفتار کے لحاظ سے یدادری بھونگیر ضلع 91.85 فیصد کے ساتھ ریاست میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ جنگاؤں (87.54 فیصد) اور میدک (86.95 فیصد) بھی نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ دوسری جانب رنگا ریڈی (56.50 فیصد)، میڑچل ملکاجگری (48.77 فیصد) اور حیدرآباد (47.53 فیصد) میں کام نسبتاً سست رفتار سے جاری ہے۔
الیکشن حکام نے شہری اضلاع میں ووٹرس کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی عملہ تعینات کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ 3 اگست سے قبل ووٹر تصدیق اور ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مکمل کیا جا سکے۔



