
گریٹر حیدرآباد میں ووٹر لسٹ نظرثانی مہم تیز، 12 لاکھ ووٹرس کے نام حذف ہونے کا خدشہ
ووٹرس کو چاہیے کہ اپنی معلومات کی بروقت تصدیق کرائیں اور اینومریشن فارم جمع کرکے ووٹر لسٹ میں اپنا اندراج محفوظ بنائیں۔
حیدرآباد، 22 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): گریٹر حیدرآباد میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مہم جاری ہے، جس کے دوران الیکشن حکام کی جانب سے ووٹرس کے ریکارڈ کی جانچ اور تصدیق کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، ڈیجیٹل تصدیقی عمل مکمل ہونے تک تقریباً 12 لاکھ ووٹرس کے ریکارڈ کی جانچ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ان میں ایسے ووٹرس بھی شامل ہیں جن کے نام، سرنیم، رہائشی پتے یا دیگر تفصیلات میں اختلاف پایا گیا ہے یا جنہوں نے تاحال اینومریشن فارم جمع نہیں کرایا۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ووٹرس کو نوٹس جاری کرکے وضاحت اور ضروری دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں تاکہ حتمی انتخابی فہرست کی تیاری سے قبل ریکارڈ کو درست کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق گریٹر حیدرآباد کے اضلاع حیدرآباد، رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری میں بڑی تعداد میں ایسے شہری مقیم ہیں جن کا تعلق آندھرا پردیش، اترپردیش، راجستھان، گجرات، آسام، کرناٹک، ٹاملناڈو سمیت دیگر ریاستوں اور تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے ہے۔ ان میں سے متعدد افراد نے اپنے آبائی علاقوں میں ووٹر کے طور پر برقرار رہنے کو ترجیح دی ہے، جس کے باعث وہ حیدرآباد میں تقسیم کیے گئے اینومریشن فارم واپس جمع نہیں کرا رہے۔
الیکشن عملے کی جانب سے تقسیم کیے گئے فارموں کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 20 سے 30 فیصد فارم مقررہ مدت میں واپس نہیں آئیں گے۔ بعض علاقوں میں یہ رجحان زیادہ نمایاں دیکھا گیا ہے، جہاں شہریوں نے دوہری اندراج سے بچنے کے لیے اپنے مستقل آبائی حلقوں کو ترجیح دی ہے، جبکہ مستقل طور پر حیدرآباد میں مقیم افراد مقامی ووٹر لسٹ میں اپنا نام برقرار رکھنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق ضلع حیدرآباد میں ہزاروں ووٹرس کو ابتدائی جانچ کے دوران غیر حاضر، منتقل شدہ یا متوفی (ASD) زمرے میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ رنگاریڈی اور میڑچل ملکاجگری میں بھی ایسے ریکارڈ کی جانچ جاری ہے۔ اسی طرح جن ووٹرس کے نام، ولدیت یا سرنیم میں ریکارڈ سے اختلاف پایا جا رہا ہے، انہیں وضاحت اور دستاویزات جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ حتمی فہرست کی تیاری سے پہلے ریکارڈ درست کیا جا سکے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر اینومریشن فارم مکمل بھرنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو کم از کم فارم کے ضروری کالم، خصوصاً موجودہ رہائشی تفصیلات درج کرکے اسے متعلقہ بی ایل او کے حوالے کریں۔ بعد ازاں ضروری شناختی دستاویزات فراہم کرکے ریکارڈ کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جی ایچ ایم سی ہیڈ آفس اور مختلف سرکل دفاتر میں خصوصی ہیلپ لائن مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ شہری بروقت رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنے ووٹ کا اندراج محفوظ رکھ سکیں۔



