سرورققومی خبریں

خان سر کو پٹنہ عدالت سے بڑی راحت، گرفتاری پر عارضی روک

پٹنہ عدالت کے فیصلے نے خان سر کو فوری قانونی راحت فراہم کر دی ہے۔

نئی دہلی 09 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)معروف ماہرِ تعلیم اور کوچنگ ادارے کے سربراہ خان سر کو فائرنگ سے متعلق مقدمے میں بڑی قانونی راحت حاصل ہوئی ہے۔ پٹنہ سول کورٹ نے منگل کے روز ان کی گرفتاری پر عبوری روک عائد کرتے ہوئے فوری گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا۔

خان سر کے خلاف پٹنہ کے کدم کنواں تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی 2 جون کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد عمل میں آئی، جس میں ان کے کوچنگ ادارے کے دو سکیورٹی اہلکار مبینہ طور پر فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے دونوں گارڈز کو گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس تحقیقات کے مطابق 2 جون کی رات کوچنگ سنٹر کے باہر ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس دوران ادارے کے بینرز اور پوسٹرز کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔

ابتدائی طور پر خان سر نے دعویٰ کیا تھا کہ شرپسند عناصر کی جانب سے فائرنگ کی گئی، تاہم بعد میں انہوں نے اپنے اس بیان کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے واپس لے لیا۔ دوسری جانب گرفتار سکیورٹی گارڈز نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے دفاع کے لیے گولیاں چلائیں۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے بیانات اور شواہد کی بنیاد پر پولیس نے خان سر کے خلاف آرمس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، جس کے بعد ان کی گرفتاری کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔

اس معاملے میں خان سر کی جانب سے پیر کو پٹنہ سول کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ منگل کو سماعت کے دوران عدالت نے انہیں عبوری راحت دیتے ہوئے گرفتاری پر روک لگا دی۔ مقدمے کی آئندہ سماعت میں عدالت پیشگی ضمانت کی درخواست پر مزید غور کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button