مہاراشٹر : کم عمری کی شادی روکنے کے لیے نیا قانون، شادی کارڈ پر دولہا دلہن کی تاریخ پیدائش لازمی کرنے کی تجویز
راجستھان ماڈل اپنانے پر غور، شادی سے قبل عمر کی تصدیق آسان بنانے اور کم عمری کی شادیوں پر مؤثر روک لگانے کی تیاری۔
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مہاراشٹر حکومت کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ایک اہم قانون نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت شادی کے دعوت نامے (ویڈنگ کارڈ) پر دولہا اور دلہن دونوں کی تاریخ پیدائش درج کرنا لازمی ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے شادی سے قبل دونوں فریقوں کی عمر کی تصدیق آسان ہوگی اور کم عمر بچوں کی شادیوں کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے گا۔
ریاست کی خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر آدیتی تٹکرے نے ریاستی اسمبلی میں بتایا کہ راجستھان میں شادی کارڈ پر تاریخ پیدائش درج کرنے کے نظام سے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اسی ماڈل کو مہاراشٹر میں بھی نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ قانون کے تحت صرف والدین ہی نہیں بلکہ پرنٹنگ پریس، شادی ہالز (منگل کاریالے)، ایونٹ آرگنائزرز اور دیگر سہولت کار بھی قانون پر عمل درآمد کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر کسی کم عمر شادی کے انعقاد میں ان کا کردار ثابت ہوا تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر کے مطابق ریاستی حکومت کا ہدف آئندہ پانچ برسوں کے دوران کم عمری کی شادیوں کے واقعات کو 10 فیصد سے بھی کم سطح پر لانا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے سفارش کی تھی کہ شادی کارڈ پر تاریخ پیدائش درج کرنا لازمی بنایا جائے تاکہ عمر کی تصدیق آسان ہو سکے۔
اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں اب بھی 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ پربھنی ضلع میں کم عمری کی شادیوں کی شرح 48 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ رہی، جبکہ بیڈ میں 43.7 فیصد، دھولے میں 40.5 فیصد اور سولاپور میں 40.3 فیصد کیسز سامنے آئے۔
تاہم حکومت کے مطابق مجموعی طور پر ریاست میں کم عمری کی شادیوں میں کمی آ رہی ہے۔ 2019-21 کے دوران یہ شرح 21.9 فیصد تھی، جو 2023-24 میں کم ہو کر 19.6 فیصد رہ گئی ہے۔
آدیتی تٹکرے نے مزید بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران اب تک 1,434 کم عمری کی شادیوں کو بروقت روک دیا گیا ہے، جو انتظامیہ کی مؤثر کارروائی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت صرف والدین ہی نہیں بلکہ ایسے مذہبی پیشواؤں، موسیقاروں اور دیگر افراد کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کر رہی ہے جو جان بوجھ کر کم عمری کی شادیوں میں تعاون کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضلع ایکشن فورسز، گاؤں کی تحفظ کمیٹیاں، تعلقہ سطح کی کمیٹیاں اور ضلع مجسٹریٹ کی نگرانی میں مختلف ادارے سرگرم عمل ہیں، جبکہ حکومت ان کی استعداد مزید بڑھانے کے لیے مالی اور انتظامی تعاون بھی فراہم کر رہی ہے۔



