تلنگانہ کی خبریںجرائم و حادثات

نلگنڈہ اجتماعی قتل کیس: جائیداد کی لالچ میں بیٹی اور داماد نے والدین اور بہن بھائی کو قتل کروا دیا

نلگنڈہ میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی مشتبہ موت کا معمہ حل،کرائے کے قاتلوں کے ذریعے واردات کرائی

تلنگانہ/حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ضلع نلگنڈہ کے ایک ہی خاندان کے چار افراد کے بہیمانہ قتل کے سنسنی خیز مقدمے میں پولیس نے اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس واردات کے پیچھے مقتولہ حسینہ کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹی اور اس کا شوہر ملوث ہیں۔ پولیس کے مطابق جائیداد کے تنازع کو قتل کی بنیادی وجہ مانا جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں چار روڈی شیٹرس سمیت چھ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق 22 جون کو تلنگانہ کالونی کے ایک مکان میں 45 سالہ سلطان، ان کی 38 سالہ اہلیہ حسینہ، 20 سالہ مزمل اور 14 سالہ افسرہ مردہ پائے گئے تھے۔ ابتدائی طور پر ان اموات کو مشتبہ قرار دیا گیا تھا، تاہم فارنسک رپورٹ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ چاروں کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔

تفتیش کے دوران پولیس نے پرانے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے چار روڈی شیٹرس سمیت چھ افراد کو حراست میں لیا۔ ذرائع کے مطابق زیرحراست افراد سے نامعلوم مقام پر پوچھ گچھ جاری ہے اور پولیس کو شبہ ہے کہ انہیں اس قتل کی واردات کو انجام دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتولہ حسینہ اپنی جائیداد کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنے والی تھیں، جس پر خاندان کے بعض افراد ناراض تھے۔ اسی تناظر میں پولیس نے حسینہ کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹی اور اس کے شوہر کو شک کے دائرے میں لیا اور پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم معلومات حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کے مطابق حملہ آور رات کے وقت گھر میں داخل ہوئے اور پہلے سلطان کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد حسینہ کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ والدین پر حملہ ہوتے دیکھ کر دونوں بچے جان بچانے کے لیے بستر کے نیچے چھپ گئے تھے، لیکن حملہ آوروں نے انہیں بھی ڈھونڈ نکالا۔ مزمل پر متعدد مرتبہ چاقو سے حملہ کیا گیا، جبکہ کمسن افسرہ کو بھی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزمان نے گھر کے مرکزی دروازے کو تالا لگا دیا اور موقع سے فرار ہوگئے تاکہ کسی کو فوری طور پر شک نہ ہو۔ بعد ازاں جب واقعہ منظرعام پر آیا تو علاقے میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تحقیقات کا آغاز کیا۔

تفتیش کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اسی مکان میں چوری کی ایک واردات پیش آئی تھی اور پولیس اس معاملے میں بھی بعض افراد کے کردار کی جانچ کر رہی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ سلطان ہینڈ بیگز کے کاروبار سے وابستہ تھے، جبکہ ان کا بیٹا مزمل اے سی ٹیکنیشن تھا۔ 14 سالہ افسرہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی اور حسینہ ایک نجی اسکول میں بطور ٹیچر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ خاندان کے چار افراد کے قتل کے اس واقعے نے نہ صرف نلگنڈہ بلکہ پورے تلنگانہ میں سنسنی پھیلا دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور زیرحراست ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس نے اشارہ دیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور پورے معاملے کی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری کی جائیں گی۔

نوٹ: یہ خبر ابتدائی پولیس تحقیقات اور ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔ ملزمان کے خلاف الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں، لہٰذا حتمی حقائق پولیس کی باضابطہ رپورٹ اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button