سعودی عرب میں پھنسے تلنگانہ کے نوجوان کی بازیابی کے لیے والدہ کی ہائی کورٹ میں درخواست
نوکری کا وعدہ، مگر صحرا میں چرواہا بنا دیا گیا
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ کے ضلع جگتیال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے بیٹے کو سعودی عرب سے بحفاظت واپس لانے کے لیے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ خاتون کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کو نوکری کا جھانسہ دے کر سعودی عرب لے جایا گیا، جہاں اسے ریاض سے تقریباً 950 کلومیٹر دور ایک صحرائی علاقے میں چرواہے کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزار داسری راجاوا، جو جگتیال ضلع کے گولاپلی منڈل کے راجاپلے گاؤں کی رہائشی ہیں، نے اپنے وکیل چندرا کے ذریعے تلنگانہ ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی ہے۔ اس درخواست پر 9 جولائی کو جسٹس بی وجے سین ریڈی کی بنچ کے روبرو سماعت متوقع ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو حکم دیا جائے کہ وہ داسری ارویند کا سراغ لگا کر اسے آزاد کرائیں، قونصلر معاونت فراہم کریں اور بحفاظت بھارت واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے متعدد درخواستیں دینے کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
عدالتی درخواست کے مطابق دساری داسری ارویند نے سعودی عرب میں پیکنگ ورکر کی ملازمت دلانے کے وعدے پر ایک مقامی گلف ایجنٹ کو 90 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ وہ 15 فروری 2026 کو سعودی عرب روانہ ہوا، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد اسے مبینہ طور پر ریاض سے تقریباً 950 کلومیٹر دور ایک ویران صحرائی علاقے میں لے جا کر چرواہے کے طور پر کام کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ داسری ارویند کو مناسب خوراک، پینے کا پانی، رہائش اور طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اس کا موبائل سم کارڈ بھی ضبط کر لیا گیا، جس کے باعث وہ اپنے اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پا رہا اور اسے وطن واپس آنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وزارتِ خارجہ، پروٹیکٹر جنرل آف ایمیگرینٹس، ریاض میں بھارتی سفارت خانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو سعودی حکام کے ساتھ رابطہ قائم کرنے،داسری ارویند کا سراغ لگانے، اسے کفیل کے قبضے سے آزاد کرانے، قونصلر مدد فراہم کرنے اور جلد از جلد بھارت واپس لانے کی ہدایت دی جائے۔
اس مقدمے میں حکومتِ تلنگانہ، جنرل ایڈمنسٹریشن (این آر آئی) محکمہ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، جگتیال کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
ہائی کورٹ سے رجوع کرنے سے قبل داسری راجاوا نے 8 مئی کو تلنگانہ حکومت کے سی ایم پراواسی پرجاوانی پروگرام کے ذریعے درخواست جمع کرائی تھی، جس میں تلنگانہ این آر آئی ایڈوائزری کمیٹی کے نائب چیئرمین ماندھا بھیم ریڈی نے بھی تعاون کیا تھا۔
اس درخواست کے بعد تلنگانہ حکومت نے ریاض میں بھارتی سفارت خانے کو مداخلت کے لیے خط ارسال کیا، جبکہ پولیس نے مبینہ ریکروٹمنٹ ایجنٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ دوسری جانب حیدرآباد کے پروٹیکٹر آف ایمیگرینٹس نے ممبئی کی ایک رجسٹرڈ ریکروٹمنٹ ایجنسی کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔



